data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: اپوزیشن لیڈر کے ایم سی اور نائب امیر جماعت اسلامی کراچی سیف الدین ایڈوکیٹ نے جمعہ کو سانحہ گل پلازہ کے مقام کا دورہ کیا اور شہر کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا۔

میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سندھ پر 17 سال سے حکمرانی کرنے والی پیپلز پارٹی اہل کراچی کے مسائل کا حل نہیں بلکہ خود سب سے بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔

سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ نے سندھ حکومت اور اس کے ماتحت پورے نظام کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے اور موجودہ حکومت و نظام کو اب بدلنا پڑے گا، انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعلیٰ اور قابض میئر استعفیٰ دیں کیونکہ یہ عوام کے حقیقی نمائندے نہیں ہیں، اگر جماعت اسلامی کے میئر ہوتے تو شہر کی موجودہ ابتر حالت نہ ہوتی اور کراچی لاکھ درجے بہتر ہوتا۔

انہوں نے سانحہ گل پلازہ میں 68 انسانی جانوں کے ضیاع اور اربوں روپے کے مالی نقصان کے حوالے سے کمشنر کراچی کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی کو مسترد کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا، جس میں شہر کے اسٹیک ہولڈرز کو بھی شامل کیا جائے اور ذمہ داروں کے تعین کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی جائے۔

سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ کراچی کی موجودہ ابتر حالت، حادثات اور سانحات کی وجوہات کا فوری جائزہ ضروری ہے تاکہ آئندہ ایسا نہ ہو، افسوس اور کوتاہی کے اظہار سے اہل کراچی کے دکھوں کا مداوا نہیں ہوتا اور سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کے زخموں پر مرہم نہیں رکھا جا سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ شہر میں فائر برگیڈ کا محکمہ مؤثر انداز میں کام نہیں کر رہا، صرف 21 فائر اسٹیشن فعال ہیں جبکہ 350 اسٹیشن ہونے چاہئیں۔ عملے کے پاس حفاظتی لباس، ہیلمٹ اور ماسک تک موجود نہیں، جس سے آگ بجھانے والے عملے کی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ سندھ میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں، اداروں کے درمیان کوئی کوآرڈینیشن موجود نہیں، وزراء صرف شاندار دفاتر میں بیٹھ کر اجلاس کرتے ہیں اور شہری اداروں کو مکمل ناکام بنا دیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی نے شہری وسائل کو کرپشن اور نااہلی کی نذر کر کے کراچی کا نام ختم کر دیا ہے اور شہر تباہ و برباد ہو گیا ہے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سانحہ گل پلازہ نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی