فراڈ سے متعلق خبروں پر پاکستانی کھلاڑیوں کا مؤقف سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
پاکستان کےسابق اور موجودہ کرکٹرز کےساتھ مبینہ فراڈ کی خبروں پر کھلاڑیوں نے اپنا مؤقف دیتے ہوئے بتایا کہ ہم نے کمپنی میں انویسٹمنٹ کی تھی، ہمارے ساتھ کوئی فراڈ نہیں ہوا۔کھلاڑیوں نے مؤقف اختیار کیا کہ کمپنی ہم سے رابطے میں ہے، مارچ تک تمام پیمنٹ کلیئر کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے، صرف 2 چیک باؤنس ہوئے ہیں۔کھلاڑیوں نے کہا کہ اس سلسلے میں چیئرمین کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے بھی رابطہ کیا ہے، کھلاڑیوں نے محسن نقوی سے کہا کہ ابھی تک کوئی مسئلہ نہیں ہے اور اگر کچھ ہوا تو بتادیں گے۔کھلاڑیوں نے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کو بتایا کہ مارچ تک پیمنٹ کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، کمپنی کا مالک دبئی میں ہے اور ہم سے رابطے میں ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل خبر سامنے آئی تھی کہ ذرائع کے مطابق کرکٹرز نے مبینہ فراڈ کی کسی پلیٹ فارم پرباضابطہ شکایت درج نہیں کرائی، کھلاڑیوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ سےبھی مسئلہ حل کرانےکے لیے رابطہ نہیں کیا۔ذرائع کے مطابق کرکٹرز نےسابق کپتان کی دیکھا دیکھی میں کاروباری شخص کے ساتھ سرمایہ کاری کی، موجودہ کرکٹرز میں سابق اور موجودہ کپتانوں کےنام بھی شامل ہیں، بعض کرکٹرز نے براہ راست بھی کاروباری شخص کےساتھ سرمایہ کاری کی،کرکٹرز نےاپنےکروڑوں روپےغیر معمولی منافع کےچکرمیں مبینہ طور پردے دیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کھلاڑیوں نے کرکٹرز نے
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔