پاکستان کے سابق اور موجودہ کرکٹرز کے ساتھ مبینہ فراڈ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
پاکستان کے سابق اور موجودہ کرکٹرز کے ساتھ مبینہ فراڈ کا واقعہ پیش آیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کرکٹرز نے مبینہ فراڈ کی کسی پلیٹ فارم پر باضابطہ شکایت درج نہیں کروائی۔
کرکٹرز نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے بھی مسئلہ حل کروانے کے لیے رابطہ نہیں کیا۔ کرکٹرز نے سابق کپتان کی دیکھا دیکھی کاروباری شخص کیساتھ سرمایہ کاری کی۔
موجودہ کرکٹرز میں سابق اور موجودہ کپتانوں کے نام بھی شامل ہیں، بعض کرکٹرز نے براہِ راست بھی کاروباری شخص کے ساتھ سرمایہ کاری کی۔
کرکٹرز نے اپنےکروڑوں روپے ڈبل منافع کے چکر میں مبینہ طور پر دے دیے، کرکٹرز کو آغاز میں منافع بھی ملتا رہا بعد میں کاروباری شخص منظر سے غائب ہوگیا۔
ذرائع کے مطابق فراڈ کرنے والا شخص امریکا میں رہائش پذیر ہے، اسکی کئی پاکستانی کرکٹر سے دوستی تھی۔
ذرائع کے مطابق کرکٹرز کا دعویٰ ہے کہ اب اس شخص کا فون بند ہے۔ کرکٹرز اصل رقم واپس لینا چاہتے ہیں لیکن فراڈ کرنے والے شخص سے رابطہ نہیں ہو رہا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرکٹرز نے چند ہفتے قبل اس سے متعلق کوششیں کیں اور بعض کو کچھ پیسے واپس بھی ملے ہیں۔
ذرائع کے مطابق کرکٹرز کا ایک مشہور ایجنٹ بھی رقم سے محروم ہونے والوں میں شامل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کرکٹرز نے
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔