Jasarat News:
2026-07-24@04:48:02 GMT

کون کس کے ساتھ ہے — اور کیوں؟

اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260123-03-7
چاہے بات اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کی ممکنہ سفارتی منظوری کی ہو یا متحدہ عرب امارات کی بڑھتی ہوئی طاقت اور اثر پذیری کے تجزیے کی، ایک اخلاقی سوال خود بخود سامنے آتا ہے: کیا طاقت اخلاقی ہوتی ہے؟ مگر شاید یہی سوال اپنی بنیاد میں درست نہیں۔ زیادہ قرین ِ قیاس بات یہ ہے کہ طاقت اور اخلاقیات دو الگ مگر باہم جڑے ہوئے تصورات ہیں۔ بین الاقوامی قانون اگرچہ خودمختاری، انصاف اور اصول جیسے اخلاقی تصورات پر قائم ہے، لیکن عالمی نظام عملاً طاقت اور اثر و رسوخ کے توازن کے تابع رہتا ہے۔ اگر اخلاقیات واقعی عالمی سیاست کی رہنما ہوتیں تو قوانین کی خلاف ورزیاں معمول نہ بنتیں، پابندیاں چند مخصوص ریاستوں تک محدود نہ رہتیں، اور تاریخ ہمیشہ طاقتور فریق کے نقطہ ٔ نظر سے مرتب نہ کی جاتی۔

طاقت اثر پیدا کرتی ہے، اور یہ اثر ہمیشہ عسکری قوت یا براہِ راست تشدد سے جنم نہیں لیتا۔ اکثر یہ خاموشی سے ریاستی اور عالمی نظاموں کے اندر راستے بناتا ہے۔ جدید تنازعات میں مسلح گروہ اب نظریات کے بجائے سرمائے کے سہارے قائم رہتے ہیں، مگر کم ہی یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ یہ سرمایہ کن ذرائع سے آ رہا ہے، مالیاتی ڈھانچے اس میں کس طرح شامل ہیں، اور پابندیاں مخصوص انداز میں کیوں نافذ کی جاتی ہیں۔ طاقت اور اثر و رسوخ اب ایک ایسی قدر بن چکے ہیں جو روایتی راستوں کی محتاج نہیں۔ اگر کوئی ریاست سونا، توانائی یا دیگر قدرتی وسائل کو مالی قوت میں ڈھال سکتی ہے تو وہ ایک گولی چلائے بغیر بھی تصادم کی معیشتوں میں داخل ہو سکتی ہے۔ اسی لیے طاقت کو محض اچھا یا برا قرار دینا ممکن نہیں؛ دو ٹوک تقسیم عالمی سیاست میں کارگر ثابت نہیں ہوتیں۔ مستقل مسابقت کی دنیا میں مکمل اخلاقیات ایک دلکش تصور تو ہو سکتی ہیں، مگر عملی حقیقت نہیں۔

اسی تناظر میں اگر وینزویلا کو سامنے رکھ کر یہ سوال اٹھایا جائے کہ اس کے بعد امریکا کی توجہ کا اگلا مرکز کون ہو سکتا ہے، تو ایک واضح نقشہ ابھرتا ہے۔ دباؤ کسی عسکری یلغار سے شروع نہیں ہوتا بلکہ پہلے معاشی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں، پھر کرنسی کو دباؤ میں لایا جاتا ہے، اس کے بعد قانونی چارہ جوئی، خفیہ معلومات پر مبنی کارروائیاں اور سیاسی ساکھ کو کمزور کرنے کے اقدامات سامنے آتے ہیں۔ جب یہ مراحل اپنی حد کو پہنچنے لگتے ہیں تو محدود نوعیت کے عملی اقدامات اختیار کیے جاتے ہیں۔ یہی جدید طاقت کا طریقۂ کار ہے، جو جھنڈوں اور ٹینکوں کے بجائے دباؤ اور گرفت کے ذریعے کام کرتا ہے۔

یہی منطق ایران کے معاملے میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ ایران میں جاری بے چینی اگرچہ 1979 کے بعد شاید سب سے زیادہ شدید ہے، مگر اسے انقلاب قرار دینا تجزیاتی لغزش ہوگی۔ جو کچھ وہاں ہو رہا ہے وہ کم شدت کے خفیہ دباؤ کے ایک مانوس نمونے سے مشابہ ہے، جس کا مقصد حکومت کا تختہ الٹنا نہیں بلکہ ریاستی صلاحیت کو کمزور کرنا، معاشرے کو مسلسل بے یقینی میں رکھنا اور قیادت کو دباؤ میں رکھنا ہے۔ ایسی حکمت ِ عملیاں لازماً سخت حفاظتی ردِعمل کو جنم دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں داخلی تقسیم گہری ہوتی ہے اور بیانیاتی محاذ پر بیرونی خطرات کو نمایاں کیا جاتا ہے۔ منظم نیٹ ورکس، غیر قانونی ہتھیاروں تک رسائی، بیرونِ ملک تیار کردہ ہدایتی مواد اور روز مرہ زندگی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے جیسے طریقے اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مقصد ریاستی ناکامی کا تاثر قائم کرنا ہے۔ اس کے باوجود، ایران کی متنوع سماجی ساخت نے واضح کیا ہے کہ انہیں ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اور تمام دباؤ کے باوجود کسی فوری انہدام کا کوئی واضح نقشہ سامنے نہیں آیا۔

اسی بحران کے ساتھ ایک متوازی محاذ ڈیجیٹل دنیا میں بھی کھل چکا ہے۔ سماجی رابطوں کے ذرائع پر جارحانہ بیانیات کے ذریعے احتجاجی سرگرمیوں کو بڑھاوا دیا گیا۔ ہاآرتص، دی مارکر اور سٹیزن لیب کی تحقیقات نے مربوط آن لائن اثرانداز مہمات، جعلی فارسی زبان کے اکاؤنٹس، مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد اور فرضی شناختوں کے استعمال کی نشاندہی کی۔ کئی مواقع پر ایسا مواد زمینی حقیقت سے پہلے سامنے آیا، جس سے واضح ہوا کہ یہ محض خود رو عوامی تحریک نہیں بلکہ عالمی ناظرین کے لیے ترتیب دی گئی بیانیاتی تشکیل تھی۔ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ معاشی دباؤ، مہنگائی اور سیاسی بے چینی کے باعث حقیقی احتجاج بھی موجود تھا، مگر ان ڈیجیٹل مہمات کا بنیادی مقصد عالمی تاثر اور ذرائع ابلاغ کی توجہ کو مخصوص سمت میں موڑنا تھا۔ جدید تنازعات اب بیک وقت سڑکوں اور اسکرینوں پر لڑے جا رہے ہیں۔

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی محض عالمی سیاست تک محدود نہیں بلکہ اس کا براہِ راست تعلق تیل، بحری گزرگاہوں اور عالمی مہنگائی سے ہے۔ جیسے ہی دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے، تیل بردار جہازوں کی انشورنس لاگت فوراً بڑھ جاتی ہے، بحری نقل و حمل سست پڑ جاتی ہے اور توانائی کی منڈیاں خطرے کو قیمتوں میں سمو لیتی ہیں۔ آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر جیسے راستوں پر معمولی سی کشیدگی بھی عالمی رسد، ایندھن کی قیمتوں اور غذائی مہنگائی کو متاثر کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے تنازعات میں منڈیاں اکثر افواج سے پہلے ردِعمل ظاہر کرتی ہیں۔

اسی پس منظر میں یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ خلیج میں موجود امریکی فوجی اڈے کسی حملے کے لیے نہیں بلکہ بازدار قوت اور دباؤ کے توازن کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔ تاہم یہ حکمت ِ عملی خود خلیجی ریاستوں کے لیے ایک نازک مخمصہ پیدا کرتی ہے، کیونکہ کسی بھی محدود کشیدگی کا براہِ راست اثر ان کی توانائی کی برآمدات، سرمایہ کی آمد و رفت اور معاشی استحکام پر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلیجی ریاستیں بظاہر خاموش دکھائی دیتی ہیں، مگر پس ِ پردہ کشیدگی کو پھیلنے سے روکنے کی کوششوں میں مصروف رہتی ہیں۔ یہ خاموشی کمزوری نہیں بلکہ محتاط خطرہ نظم و نسق ہے۔

اسی وسیع طاقت کے حساب میں حالیہ مہینوں کے دوران پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دفاعی روابط، مشترکہ عسکری مشقوں اور تکنیکی تعاون میں آنے والی پیش رفت کو محض معمول کی سفارت کاری سمجھنا تجزیاتی سادگی ہوگی۔ یہ روابط کسی رسمی فو
جی اتحاد کا اعلان نہیں، بلکہ ایک ایسے خاموش دفاعی جال کی تشکیل کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو مغربی رسد گاہوں، سیاسی شرائط اور استعمال کی پابندیوں کے متبادل راستے تلاش کر رہا ہے۔ یہاں مقصد کسی کے خلاف کھلی صف بندی نہیں بلکہ اسٹرٹیجک خودمختاری کو محفوظ بنانا ہے، تاکہ کسی بحران کی صورت میں ریاستیں محض اخلاقی بیانات یا بیرونی ضمانتوں پر انحصار کرنے پر مجبور نہ ہوں۔ یہی منطق خلیج کی محتاط خاموشی، ایران پر دباؤ کی تہہ دار حکمت ِ عملی اور عالمی منڈیوں کے فوری ردِعمل میں بھی جھلکتی ہے: طاقت اب شور پر نہیں بلکہ حساب کتاب پر چل رہی ہے۔

آج کی عالمی سیاست میں اتحاد اخلاقیات کے بجائے حساب سے بنتے ہیں۔ طاقت اب کسی نعرے یا اعلان کی محتاج نہیں رہی بلکہ ایک ایسا مؤثر ذریعہ بن چکی ہے جو خاموش، منظم اور غیر خطی انداز میں استعمال ہو رہا ہے۔ اس کا اظہار تیل کی درآمد و برآمد، توانائی کی قیمتوں، بحری گزرگاہوں، انشورنس کے خطرات اور عالمی منڈیوں کے فوری ردِعمل میں نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے، جہاں کسی ایک محدود اقدام کے اثرات سرحدوں سے کہیں آگے تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ ایسے ماحول میں ریاستیں نہ مکمل صف بندی کرتی ہیں اور نہ ہی کھلی مخالفت، بلکہ اپنے مفادات، رسائی اور گنجائش ِ عمل کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ شاید اسی لیے آج یہ سوال زیادہ شور نہیں مچاتا، مگر آہستہ آہستہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ عالمی نظام میں تعلقات اب اسی بنیاد پر تشکیل پا رہے ہیں کہ کون، کیوں، کہاں اور کب — کس کے ساتھ کھڑا ہونا زیادہ قابل ِ عمل سمجھتا ہے۔

رمیصاء عبدالمھیمن سیف اللہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: عالمی سیاست نہیں بلکہ اور عالمی طاقت اور رہا ہے

پڑھیں:

جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ  نازیبا ویڈیو سامنے آنے پر تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ پہلے تو اس ویڈیو کو فیک اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تخلیق  بتایا گیا لیکن جب ویڈیو اصل نکل آئی تو ممتاز سینئیر سیاست دان نے دوسری شادی  کرنے کا دعویٰ کیا۔ خاتون کے غیر شادی شدہ ہونے کی دستاویز نے سیاستدان کو زیادہ مشکل میں ڈال دیا۔  بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے رکن، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سینئیر سیاستدان غازی نذرالاسلام کی   ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایک کی مبینہ دوسری شادی کے معاملے پر تنازع  ان کے دوسری شادی کا اعتراف کر لینے کے بعد کم نہیں ہوا۔ اب جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سارے معاملہ کی تحقیقات کروا رہی ہے

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

 بنگلہ دیش کے  میڈیا کے مطابق غازی نذرالاسلام کی سوشل میڈیا پر ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہو گئی تھی۔ پہلے تو ان کے حامیوں نے اس ویڈیو کو ڈیپ فیک اور آڑٹیفیشل انٹیلیجنس سے بنائی گئی  ویڈیو قرار دیا، لیکن جب  تنقید کرنے والے  خاموش نہیں ہوئے تو بعض لوگوں نے اس ویڈیو کی سافٹ وئیرز کی مدد سے ویریفیکیشن کی۔ فیکٹ چیک کرنے والے ایک  ادارے  نے بتا دیا کہ ویکڈو بالکل اصلی ہے۔  نذر الاسلام کی نوجوان خاتون کے ساتھ  ویڈیو کے مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے یا اس میں کوئی تبدیلی کیے جانے کے شواہد نہیں مل۔ اس کے بعد لوگوں کی ساری توجہ ویڈیو   میں شامل افراد اور ان کے باہمی تعلق پر مرکوز ہوگئی۔ جب سوشل میڈیا پر  تنقید کافی برھ گئی تو    جماعت اسلامی کے سینئیر سیاست دان اور رکن پارلیمنٹ نے ویڈیو کلپ میں اپنے ساتھ دکھائی دینے والی نوجوان خاتون کو اپنی بیوی قرار دے دیا۔  غازی نذرالاسلام نے اپنے بیان میں کہا کہ خاتون ان کی دوسری بیوی ہے  اور ان کی شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور ان کی پہلی بیوی کی رضامندی سے ہوئی تھی۔

چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات

 نذر الاسلام نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس وائرل ویڈیو کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرکے بھتہ خوری اور سیاسی کردار کشی کےلیے منظرِ عام پر لایا گیا۔ جماعت اسلامی کے اس سینئیر رکنِ پارلیمنٹ کی پہلی بیوی نے اس موقع پر شوہر کا ساتھ دیا اور  ایک ویڈیو بیان میں اپنے عمر رسیدہ  شوہر کے مؤقف کی  تصدیق کی کہ ان کے شوہر نے نوجوان لڑکی مریم بیگم سے دوسری شادی کرلی ہے۔ مریم بیگم نے بھی ایک علیحدہ ویڈیو میں خود کو غازی نذرالاسلام کی بیوی  قرار دیتے ہوئے کہا کہ شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور نذر الاسلام کی پہلی بیوی کی موجودگی میں ہوئی تھی۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا

 بنگلہ دیشی میڈیا  میں سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق غازی نذرالاسلام اور ان کے خاندان کی تصدیق کے باوجود سوشل میڈیا پر خاتون مریم بیگم  سے متعلق  قانونی دستاویزات منظر عام پر آئی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور نہ ہی رکن پارلیمنٹ یا خاتون اور ان کے اہلخانہ نے دستاویز ات میں موجود تضاد پر کوئی وضاحت دی ہے۔ شادی کے پانچ دن بعد نذر الاسلام نے بیوی کو کنوارا ظاہر کر کے اسکی سرکاری نوکری کی سفارش کی؟ ایک دستاویز میں نذر السلام کے ساتھ نظز آنے والی لڑکی مریم کی ازدواجی حیثیت ’غیر شادی شدہ‘ درج ہے اور اس دستاویز  پر غازی نذرالاسلام کی جانب سے 22 جون، یعنی اپنی بتائی ہوئی مبینہ شادی  کی تاریخ کے پانچ روز بعد، سرکاری ملازمت کے لیے سفارش بھی موجود دکھائی دیتی ہے۔ 

دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل

 بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق یہ خاتون سرکاری ملازمت کی خواہاں تھیں اور غازی نذرالاسلام نے ان کی درخواست کی سفارش کی تھی۔  غازی نذرالاسلام نے ان تمام کہانیوں نظر انداز کرتے ہوئے ایک اور پیچیدہ کہانی سے پردہ اٹھا دیا جو  دال میں کافی کچھ کالا ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔ عمر رسیدہ سیاستدان نذر الاسلام نے یہ دعویٰ کیا کہ 13 جولائی کو وہ ڈھاکا کے موگ بازار میں ایک دفتر گئے تھے جہاں ان کی دونوں بیویاں بھی موجود تھیں۔

 نذر الاسلام نے الزام لگایا کہ  ڈرائیور، دوسری  کے ماموں اور چند نامعلوم افراد نے انہیں یرغمال بنا کر ایک لاکھ ٹکا بھتہ وصول کیا،  ان لوگوں نے نذر الاسلام کے بقول مزید رقم کا مطالبہ کیا اور  ان لوگوں نے ہی ان کی مریم کے ساتھ خفیہ طور پر نجی ویڈیو ریکارڈ کرکے بعد میں سوشل میڈیا پر پھیلا دی۔  نذر الاسلام کے اس دعوے میں کمزوری یہ ہے کہ ویڈیو کلپ مین نذر الاسلام کو اس خاتون کے ساتھ اپنے کمرے میں بیٹھے اور بوس و کنار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔  لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ بازار کے کسی دفتر  میں یرغمال بنا کر بھتہ لینے والوں کی رسائی ان کے گھر کے کمرے تک کیسے تھی۔  

پاکستان نے کابل فضائی حملوں پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ مسترد کر دی

  اس سکینڈل کے سوشل میڈیا اور میڈیا میں بہت زیادہ ڈسکس ہونے کے بعد آخر کار جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ وہ اس سارے معاملے کی معلومات اکٹھی کر رہی ہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد تنظیم کے اندر تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل احسان الحق محبوب زبیر کے مطابق پارٹی میڈیا رپورٹس، رکنِ پارلیمنٹ، ان کی دونوں بیویوں اور خاتون کے والد کے بیانات کا جائزہ لے رہی ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار