گل پلازہ آتشزدگی: کیا یہ شارٹ سرکٹ نہیں بلکہ بچوں کی کارستانی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
کراچی کے گل پلازہ میں پیش آنے والے سانحے کے حوالے سے تحقیقاتی حکام نے ابتدائی رپورٹ جاری کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گل پلازہ سے ملنے والی انسانی باقیات کی حالت خراب، ڈی این اے کا حصول بھی ناممکن ہوگیا
مقامی میڈیا میں شائع ہونے والی مختلف رپورٹس کے مطابق آگ مصنوعی پھولوں کی دکان میں بچوں کے کھیلنے کے دوران لگی اور یہ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے نہیں ہوئی۔
رپورٹس میں کہا گیا کہ ممکنہ طور پر بچے دکان میں ماچس یا لائٹر کے ساتھ کھیل رہے تھے جس کے نتیجے میں ابتدائی طور پر آگ دکان میں موجود سامان میں پھیل گئی اور بعد ازاں بجلی کی تاروں تک جا پہنچی۔
آگ لگتے ہی عمارت میں موجود افراد خارجی راستوں کی طرف بھاگنے لگے تاہم بعض دروازے بند ہونے کی وجہ سے بھگدڑ مچی۔
عمارت میں موجود زیادہ تر دکانیں کھلی ہوئی تھیں جس سے حالات مزید خطرناک ہو گئے۔
مزید پڑھیے:؛ کراچی: گل پلازہ کی دکان سے 20 سے 25 لاشیں مل گئیں، کل تعداد 60 تک پہنچ گئی
مزید برآں عمارت کی چھت کے راستے پر بھی گرل لگی ہوئی تھی اور آگ لگنے سے عمارت میں موجود سی سی ٹی وی سسٹم مکمل طور پر متاثر ہوا جس سے وقوعہ کی نگرانی میں مشکلات پیش آئیں۔
مزید پڑھیں: اندھیرا، دھواں اور بند دروازے، سانحہ گل پلازہ کیسے پیش آیا؟ ہوشربا انکشافات
رپورٹ کی تیاری میں عینی شاہدین اور متاثرین کے بیانات کو مدنظر رکھا گیا ہے تاکہ سانحے کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: گل پلازہ
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔