پہلے ہی آئین و قانون پر عوام کا اعتماد کم ہوتا جا رہا ہے آپ مزید خرابی پیدا کر رہے ہیں، علامہ راجہ ناصر عباس
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے سربراہ اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ کراچی میں 22 میں سے 21 نشستیں پی ٹی آئی جیتی لیکن انہیں حق نہیں ملا، جب عوام کے نمائندے اور بااختیار لوگ نہیں آئیں گے تو نظام بہتر نہیں ہوگا۔ 18ویں آئینی ترمیم کئی ماہ کی مشاورت کے بعد لائی گئی، 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو بااختیار بنایا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ پہلے ہی آئین و قانون پر عوام کا اعتماد کم ہوتا جا رہا ہے، آپ مزید خرابی پیدا کر رہے ہیں۔ کراچی کو اتنا بجٹ دیا لیکن اس کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کیا گیا، کراچی کی حالت دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ کراچی میں 22 میں سے 21 نشستیں پی ٹی آئی جیتی لیکن انہیں حق نہیں ملا، جب عوام کے نمائندے اور بااختیار لوگ نہیں آئیں گے تو نظام بہتر نہیں ہوگا۔ 18ویں آئینی ترمیم کئی ماہ کی مشاورت کے بعد لائی گئی، 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو بااختیار بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم ترمیم مشاورت اور اتفاق رائے سے لائی گئی، 18ویں ترمیم ایک متفقہ ڈاکومنٹ ہے جس پر سب نے اتفاق کیا۔ علامہ راجہ ناصر عباس کا مزید کہنا تھا کہ آئین اور قانون ٹھیک ہے، لیکن اس پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا، پہلے ہی آئین و قانون پر عوام کا اعتماد کم ہوتا جا رہا ہے، آپ مزید خرابی پیدا کر رہے ہیں۔ جب آپ کی آنکھوں میں آئین کا تقدس نہیں تو عوام کیسے اس پر اعتماد کریں گے، اس وقت کراچی اور اندرون سندھ نااہل لوگوں کے قبضے میں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علامہ راجہ ناصر عباس 18ویں ترمیم نے کہا جا رہا
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔