سانحہ گل پلازہ؛ عمارت کے اندر سے مشکوک چیزیں برآمد
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
کراچی:
کراچی میں آتشزدگی کے باعث جلنے والی گل پلازہ کی عمارت کے اندر سے مشکوک چیزیں برآمد ہوئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ڈیوائسز کو ڈی سی آفس منتقل کر دیا گیا، مشکوک چیز سینٹرل اے سی کا ریڈی ایٹر ہے یا کوئی اور چیز، تحقیقات کے دوران معلوم ہوگا۔
عمارت کے گرے ہوئے حصے سے ملبہ ہٹانے کے دوران ریسکیو حکام کو مشکوک چیز ملی۔
مزید پڑھیں’عارف کا فون آیا مجھے بچاؤ، میرا دم گھٹ رہا ہے‘، لاپتا شخص کے چچا کو کسی معجزے کی امید
ریسکیو حکام کی جانب سے لاپتا افراد کی تلاش کے لیے ملبہ ہٹا کر عمارت کے اندر داخل ہونے کا راستہ بنایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، ڈپٹی کمشنر ساؤتھ آفس میں سانحہ گل پلازہ کے لاپتا افراد کی اپڈیٹ لسٹ آویزاں کر دی گئی جس میں 77 افراد کے نام شامل ہیں۔
اس سے قبل 88 افراد کے ناموں کو لسٹ میں شامل کیا گیا تھا، کچھ افراد کی لاشوں کو ورثا کے حوالے بھی کر دیا گیا ہے جبکہ لسٹ میں لاپتا افراد کے اہلخانہ کے فون نمبرز بھی شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عمارت کے
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔