وادی تیراہ میں آپریشن خیبر پختونخوا حکومت کی مشاورت سے ہورہا ہے، اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
پشاور پریس کلب میں ملسلم لیگ نون کے صوبائی جنرل سیکرٹری مریضی جاوید عباسی کے ہمرا پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عباد اللہ نے کہا کہ اگر حکومت بروقت فیصلہ کرتی تو برف باری سے قبل علاقہ کلیئر ہوتا، آپریشن سے اتفاق کے بعد اب صوبائی حکومت بھڑکے ماررہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ نے کہا ہے کہ وادی تیراہ میں آپریشن خیبر پختونخوا حکومت کی مشاورت سے ہورہا ہے، جس کی مںظوری وزیراعلی کی صدارت میں ہونے والے ایپیکس کمیٹی کے اجلاس میں دی گئی۔ پشاور پریس کلب میں ملسلم لیگ نون کے صوبائی جنرل سیکرٹری مریضی جاوید عباسی کے ہمرا پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عباد اللہ نے کہا کہ وادی تیراہ میں آپریشن صوبائی حکومت کی مشاورت سے ہورہا ہے، اگر حکومت بروقت فیصلہ کرتی تو برف باری سے قبل علاقہ کلیئر ہوتا، آپریشن سے اتفاق کے بعد اب صوبائی حکومت بھڑکے ماررہی ہے۔ کمشنر اور ڈی سی نے آپریشن معاہدہ پر دستخط کیے ہیں، کیا وہ صوبائی حکومت کے ماتحت نہیں آپریشن کے لیے صوبائی حکومت نے فنڈز جاری کیے 95 ہزار آئی ڈی پیز کے لیے فی کس ایک لاکھ 25 ہزار روپے کون دے رہا ہے، تیراہ آپریشن کا فیصلہ ایپکیس کمیٹی میں ہوا جس کی صدارت وزیراعلی نے کی۔
اگر وزیراعلیٰ کا کنٹرول نہیں تو وہ استعفی دے دیں، خیبرپختونخوا حکومت کی توجہ سٹریٹ موومنٹ پر ہے گلی کوچوں کی سیاست کی جارہی ہے، وفاق سے صوبائی حکومت کو 8 سو بلین روپے دہشت گردی کے خلاف ملے یہ پیسے کہاں خرچ کیے گئے، کسی قبائلی علاقے میں پولیس سٹیشن نہیں، فرانزک لیبارٹری تک نہیں، خیبر پختونخوا امن کے قیام میں ناکام ہوگئی ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت دہشتگردوں کی مخالفت کی بجائے ان کی حمایت کر رہی ہے، جب افغانستان میں طالبان آئے تو جنرل فیض ایک کپ چائے کے لیے دوسرے دن افغانستان پہنچ گئے تھے اس سے کیا سبق لیا جائے، اس وقت صوبے میں کرپشن کا بازار گرم ہے اور عوام کے مینڈیٹ کا کھلم کھلا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا جس طرح آپریشن کی عوام میں مخالفت کر رہے ہیں اس کی وہ پہلے اجازت دے چکے ہیں، صوبائی حکومت کو آن بورڈ لے کر تیراہ اپریشن شروع کیا گیا، صوبائی حکومت نے ہی تیرا اپریشن کے لیے چار ارب روپے ریلیز کیے ہیں یہ تو وفاقی حکومت نے جاری نہیں کیے، اگر پی ٹی ائی کی صوبائی حکومت کے پاس تیراہ اپریشن کا متبادل ہے تو سامنے لائے مرکز اس سے ماننے کے لیے تیار ہے۔ عمران خان نے کئی بجٹ پاس کیے لیکن خیبر پختونخوا کو این ایف سی کی مد میں رقم فراہم نہیں کی جس پر پی ٹی ائی کی صوبائی حکومت نے ہمیشہ خاموشی اختیار کی، خیبرپختونخوا بدامنی کے شکار ہے صوبے وزیراعلی دوسرے صوبوں کے گلی کوچوں کے چکر کاٹ رہا ہے کیا عوام نے مینڈیٹ ان کو گلی کوچوں کے چکر کاٹنے کے لیے دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ڈاکٹر عباد اللہ پختونخوا حکومت خیبر پختونخوا صوبائی حکومت حکومت نے حکومت کی کے لیے
پڑھیں:
نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔
پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔
گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔
گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟
پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔
بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔
سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔