غزہ امن بورڈ پر آئرلینڈ نے شدید تحفظات کا اظہار کردیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
آئرلینڈ نے غزہ امن بورڈ سے متعلق سنگین خدشات کا اظہار کرتے ہوئے اس میں شامل ہونے سے گریز کا عندیہ دے دیا ہے۔
آئرلینڈ کے نائب وزیرِ اعظم سائمن ہیرس کا کہنا ہے کہ مجوزہ ٹرمپ امن بورڈ میں کئی خطرناک پہلو نظر آ رہے ہیں جو ابتدائی منصوبے سے مطابقت نہیں رکھتے۔
سائمن ہیرس نے کہا کہ دستخط کی تقریب کے دوران جو کچھ سامنے آیا وہ اس امن بورڈ کے اصل تصور سے مختلف تھا جس کی توثیق اقوامِ متحدہ نے کی تھی۔ ان کے مطابق اقوام متحدہ کے منظور شدہ منصوبے میں غزہ کے لیے ایک مخصوص نگرانی بورڈ تشکیل دینا شامل تھا، تاہم نئی تجاویز میں نہ صرف غزہ کا ذکر موجود نہیں بلکہ روسی صدر پیوٹن کی شمولیت بھی سامنے آئی ہے۔
نائب وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ان تبدیلیوں نے منصوبے کی شفافیت اور مقصد پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئرلینڈ کو موجودہ صورتحال میں امن بورڈ کا حصہ بنتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔
سائمن ہیرس نے مزید کہا کہ کسی بھی امن منصوبے کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اصل متاثرہ خطے پر توجہ دے اور بین الاقوامی اتفاقِ رائے کے مطابق ہو، بصورتِ دیگر ایسے اقدامات امن کے بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا کر سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔