صدر ٹرمپ نے کینیڈین وزیراعظم سے ‘غزہ بورڈ آف پیس’ میں شامل ہونے کی دعوت واپس لے لی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کے لیے قائم کیے گئے اپنے نئے عالمی اقدام ‘بورڈ آف پیس’ میں شامل ہونے کی دعوت کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی سے واپس لے لی ہے۔
یہ اعلان ٹرمپ نے جمعرات کی شب اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کیا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کینیڈا کو اس نام نہاد باوقار عالمی بورڈ میں شامل کرنے کی دعوت اب منسوخ کی جا رہی ہے۔ انہوں نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر متعارف کرایا، جس کا مقصد جنگ سے متاثرہ غزہ کی تعمیرِ نو اور عبوری حکومتی نظام کی نگرانی بتایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: وزیراعظم شہباز شریف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ بورڈ آف پیس کے چارٹر پر دستخط کر دیے
اب تک تقریباً 35 ممالک اس بورڈ میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں، تاہم وزیرِاعظم مارک کارنی نے اس حوالے سے کوئی حتمی مؤقف اختیار نہیں کیا تھا۔ کارنی ڈیووس میں اس اقدام کی افتتاحی تقریب میں شریک نہیں ہوئے تھے بلکہ وہ کیوبک سٹی میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں موجود تھے۔
ٹرمپ نے اپنے پیغام میں لکھا کہ بورڈ آف پیس دنیا کے بااثر ترین رہنماؤں پر مشتمل ہوگا اور کینیڈا کے لیے اس میں شمولیت کی دعوت واپس لی جا رہی ہے۔ اس پیش رفت پر کینیڈین وزیرِاعظم کے دفتر سے ردِعمل کے لیے رابطہ کیا گیا ہے، تاہم تاحال کوئی جواب سامنے نہیں آیا۔
بورڈ آف پیس میں شامل ہونے والے ممالک میں اسرائیل، ترکی، مصر، سعودی عرب اور قطر جیسے مشرقِ وسطیٰ کے اہم ممالک شامل ہیں، تاہم برطانیہ اور فرانس جیسے روایتی یورپی اتحادیوں نے اس اقدام کو مسترد کر دیا ہے۔ فرانس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس منصوبے کے بعض نکات اقوامِ متحدہ کے چارٹر سے متصادم ہیں۔ انسانی حقوق کے ماہرین نے بھی کسی ایک ملک کی نگرانی میں غیر ملکی خطے کے انتظام پر سوالات اٹھائے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ منصوبے کے تحت غزہ بورڈ آف پیس کے ارکان کا باضابطہ اعلان
اس منصوبے کے تحت مستقل رکنیت کے لیے ایک ارب امریکی ڈالر فیس مقرر کی گئی ہے۔ کینیڈا کے وزیرِ خزانہ فرانسوا فلپ شیمپین نے واضح کیا تھا کہ اگر کینیڈا اس بورڈ میں شامل بھی ہوتا ہے تو وہ یہ فیس ادا نہیں کرے گا۔
ٹرمپ اور کارنی کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ڈیووس میں دونوں رہنماؤں کی تقاریر کے بعد دیکھنے میں آیا۔ مارک کارنی نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ بڑی طاقتیں، خصوصاً امریکا، معاشی تعلقات کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں اور دوطرفہ مذاکرات درمیانی طاقتوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ اس کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ کینیڈا کو امریکا کا شکر گزار ہونا چاہیے اور یہاں تک کہا کہ کینیڈا امریکا کی وجہ سے زندہ ہے۔
بعد ازاں کیوبک سٹی میں خطاب کرتے ہوئے مارک کارنی نے صدر ٹرمپ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا اور امریکا کے درمیان شراکت داری ضرور ہے، لیکن کینیڈا امریکا کی وجہ سے نہیں بلکہ کینیڈین ہونے کی وجہ سے ترقی کرتا ہے۔ یہ لفظی جنگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کینیڈا، امریکا اور میکسیکو کے درمیان تجارتی معاہدےCUSMA پر نظرثانی کی تیاری جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا غزہ بورڈ آف پیس کینیڈا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا غزہ بورڈ ا ف پیس کینیڈا بورڈ آف پیس مارک کارنی کہ کینیڈا کی دعوت کے لیے
پڑھیں:
امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
امریکی سفارت خانے نے امریکا کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کی تقریبات کے سلسلے میں جمعرات کو اسلام آباد میں ’لیٹ فریڈم رنگ‘ کے عنوان سے ’لبرٹی بیل‘ نمائش کا افتتاح کر دیا۔
نمائش میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے 16 پاکستانی فنکاروں کے تیار کردہ منفرد فن پارے پیش کیے گئے ہیں، جن میں ہر فنکار نے اپنے انداز میں ‘آزادی’ کے تصور کو اجاگر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گورنر خیبرپختونخوا سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون بڑھانے پر اتفاق
نمائش کا افتتاح لوک ورثہ میوزیم میں منعقدہ تقریب میں امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس اور وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے مشترکہ طور پر کیا۔
پاکستانی فنکاروں نے ‘آزادی’ کی نئی تعبیر پیش کیامریکی سفارت خانے کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان میں امریکی مشن کے پبلک ڈپلومیسی سیکشن نے اپنے ‘لنکن کارنرز’ نیٹ ورک کے ذریعے ترتیب دیا، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے 16 فنکاروں کو شریک کیا گیا۔
Federal Minister for NH&C Aurangzeb Khan Khichi and U.S. Chargé d’Affaires Andy Halus on Thursday jointly inaugurated the “Let Freedom Ring” American Liberty Bell display at Lok Virsa Heritage Museum, celebrating the enduring cultural partnership between Pakistan & United States pic.twitter.com/3uqKCelXK9
— National Heritage and Culture Division (@DivisionCulture) July 23, 2026
ہر فنکار سے ایک ہی سوال پوچھا گیا کہ ’میرے لیے آزادی کیا معنی رکھتی ہے؟ ’اس سوال کے جواب میں فنکاروں نے ’لبرٹی بیل‘ کے منفرد ڈیزائن تخلیق کیے، جو پاکستانی نقطۂ نظر سے آزادی کے تصور کی عکاسی کرتے ہیں۔
نمائش 5 روز تک جاری رہے گی‘لیٹ فریڈم رنگ’ نمائش 23 سے 27 جولائی تک اسلام آباد کے 2 نمایاں ثقافتی مراکز، لوک ورثہ میوزیم اور پاکستان مونومنٹ میوزیم میں جاری رہے گی۔
امریکی سفارت خانے نے شہریوں کو دعوت دی ہے کہ وہ اس 5 روزہ نمائش کے دوران دونوں مقامات کا دورہ کریں اور فن پاروں کا مشاہدہ کریں۔
امریکا اور پاکستان کے مشترکہ اقدار پر زورتقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس نے کہا کہ ‘لبرٹی بیل’ آزادی، اظہارِ رائے اور بہتر مستقبل کی امید کی علامت ہے۔
أعلنت السفارة الأمريكية في إسلام آباد عن افتتاح معرض ليت فريدوم رينغ في متحف لوك ورثه ومتحف النصب التذكاري الباكستاني، وذلك ضمن الاحتفالات العالمية بمرور ٢٥٠ عامًا على إعلان الاستقلال الأمريكي.
شارك في الافتتاح القائم بالأعمال الأمريكي آندي هيلز ووزير التراث الوطني والثقافة… pic.twitter.com/EcPOSXchyu
— WE News | بالعربية (@WENewsArabic) July 23, 2026
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا دونوں معاشروں میں فن، تخلیقی اظہار اور بہتر دنیا کے تصور کو اہمیت دی جاتی ہے۔
لوک ورثہ کئی دہائیوں سے پاکستان کی ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اس تاریخی مقام پر امریکا کی آزادی کی داستان کو بھی پیش کرنا باعثِ فخر ہے۔
ثقافتی تبادلوں سے تعلقات مضبوط بنانے پر زوروفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تبادلے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں:نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے قائم مقام امریکی ناظم الامور کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
انہوں نے اس نمائش کو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات اور باہمی تعاون کی ایک مثبت مثال قرار دیا۔
امریکا 2026 میں اپنے اعلانِ آزادی کی 250 ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ اسی مناسبت سے دنیا بھر میں امریکی سفارت خانے اور سفارتی مشنز کے زیرِ اہتمام ‘فریڈم 250’ کے عنوان سے مختلف تقریبات، نمائشوں اور ثقافتی پروگراموں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں منعقد کی جانے والی ‘لیٹ فریڈم رنگ’ مہم بھی اسی عالمی پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد آزادی، اختراع، تخلیقی اظہار اور ثقافتی روابط کو فروغ دینا ہے۔
اس نمائش کے ذریعے پاکستانی فنکاروں کو اپنے فن کے ذریعے آزادی کے تصور کو پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا، جسے پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تعاون کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزادی افتتاح لوک ورثہ میوزیم امریکا امریکی سفارتخانہ امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس پاکستان ثقافتی تبادلہ فنکاروں لبرٹی بیل لیٹ فریڈم رنگ مونومنٹ میوزم