اسلامک سرکل آف نارتھ امریکا کے تحت ٹورانٹو میں 2 روزہ کنونشن کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
ٹورانٹو( رپورٹ: طارق مخدومی ) مغرب میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے آپ کو تعلیمی، معاشی، سماجی اور سیاسی لحاظ سے مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ اس طوفانی وقت میں اپنے دین پر سختی سے جمے رہیں۔
ان خیالات کا اظہار ٹورانٹو میں اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ کے زیر اہتمام دو روزہ کنونشن میں پاکستان، برطانیہ، مشرق وسطی،کینڈا، امریکہ ، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک سے آئے ہوئے اسکالرز نے کیا جن میں ڈاکٹر یاسر قاضی، ڈاکٹر عمر سلیمان، شیخ ابراہیم ہندی، ڈاکٹر الطاف حسین، الجزیرہ ٹی وی کے معروف صحافی سمیع ہمدی، ڈاکٹر اقبال مسعود ندوی، خالد رحمان، آکنا یو ایس اے کے سربراہ سعد کاظمی، آکنا کینیڈا کے امیر اسامہ لبیب اور دیگر نے خطاب کیا۔
اس دو روزہ کنونشن میں بنگلہ دیش، افغانستان اور فلسطین سے تعلق رکھنے والے کینیڈین مسلمانوں نے اہم اجلاس منعقد کیے جن میں ان ممالک کی صورتحال اور بیرون ملک مسلمانوں کے عملی تعاون پر غور کیا گیا۔
مقررین نے نئ نسل پر زور دیا کہ وہ کینیڈا کے تمام معاملات میں مکمل حصہ ڈالیں اور اپنے دین پر فخر کرتے ہوئے ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائین۔
مقررین نے غزہ کے مظلوم مسلمانوں کی کھل کر حمایت کرتے ہوئے کینیڈین مسلم کمیونٹی پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی جارحیت پر بلا خوف وخطر آواز اٹھائیں اور سوشل میڈیا کو بھی موثر انداز میں استعمال کریں۔
انہوں نے نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ مغرب میں اپنے دین اور کلچر پر کوئی معذرت خواہانہ رویہ اختیار نہ کریں اور نوجوان لڑکیاں اپنی نوکری کو اپنی ازدواجی زندگی پر ہرگز ترجیح نہ دیں۔
اس موقع پر مختلف اسلامی تنظیموں اور اہم کاروباری اداروں کے اسٹالز لگائے گئے تھے جبکہ نوجوان طلباء وطالبات اور خواتین کے لیے خصوصی پروگرام بھی منعقد کیے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔