data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
شوہر کو تسلی دینا
حدیث میں واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ سیدنا جابرؓ کا چھ سات برس کا بڑا ہونہار بچہ بیمار ہوا، اس زمانے کے مطابق دوا وغیرہ کی گئی، مگر بچہ اچھا نہ ہوا، ادھر حضرت جابرؓ کو اچانک سفر پیش آیا تو انہوں نے اپنی بیوی سے کہا میرا جانا ضروری ہے اور بچے کی حالت ایسی ہے، لہٰذا تم اچھی طرح اس کا علاج کروانا، میں جلدی آجاؤں گا۔ یہ فرما کر حضرت جابرؓ چلے گئے اور جب آنے کا دن ہوا تو بچے کا انتقال ہوگیا، آپؓ گھر میں تشریف لائے تو بیوی نے دانش مندی، دیانت داری اور ہوشیاری سے کام لیا (ورنہ آج کی طرح کوئی بیوی ہوتی رونا شروع کر دیتی، مگر وہ دانش مند خاتون تھیں) اس لیے حضرت جابرؓ کے آنے کا وقت ہوا تو اپنے آپ کو سنبھالا اور صورت ایسی بنائی کہ کسی غم کا اظہار نہیں ہو رہا تھا اور بچے کو اندر لٹادیا، اس کی لاش پر چادر ڈال دی، حضرت جابرؓ آئے تو (جیسے عرب کا دستور) بیوی نے بڑھ کر استقبال کیا، مصافحہ کیا اور اپنے شوہر کا ہاتھ چوما، حضرت جابرؓ نے آتے ہی پوچھا بچہ کہاں ہے؟ کہا الحمدللہ! خدا کا شکر ہے عافیت میں ہے اور بڑی خیر سے ہے (یہ جھوٹ بھی نہیں ہے کیوں کہ عافیت سے مراد انہوں نے اخروی عافیت لی ہے) انہوں نے اس جملے کو سن کر اطمینان کا سانس لیا، پھر بیوی نے ان کے ہاتھ دھلائے، کھانا کھلایا، اس لیے کہ اگر آتے ہی صدمے کی خبر سنا دیتی تو ان پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑتا۔ کھانا کھلاتے کھلاتے کہا میں آپ سے ایک مسئلہ پوچھنا چاہتی ہوں، بتلائیے اس میں شریعت کا حکم کیا ہے؟ فرمایا پوچھو! بیوی نے کہا اگر کوئی شخص ہمارے پاس امانت رکھوائے اور اس کی میعاد مقرر کرے کہ اتنے سال یا اتنے دن کے لیے رکھواتا ہوں، مقررہ میعاد کے بعد واپس لے لوں گا تو شریعت کا اس مسئلے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ فرمایا: اس کا حکم ظاہر ہے کہ اس کو ٹھیک وقت پر ادا کرنا چاہیے (بیوی نے کہا) اگر امانت کے ادا کرتے ہوئے دل گھٹنے لگے اور دل نہ چاہے؟ فرمایا دل نہ چاہنے کا مطلب کیا ہے؟ چیز دوسروں کی ہے، اس کو وقت پر لوٹا دینا لازم ہے، بیوی نے کہا کہ جب ایسا مسئلہ ہے تو سن لیجیے، ہمارا بچہ ہمارے پاس خدا کی امانت تھا، اللہ تعالیٰ نے سات سال کے لیے دیا تھا، آج اس امانت کو اللہ نے واپس لے لیا ہے، لہٰذا ہم کو اس بچے کے وصال پر گھٹنے کا کوئی حق نہیں تو شوہر نے اپنی بیوی کے اس عمل سے خوش ہو کر دعا دی۔
ایسا ہی ایک واقعہ سیدنا ابو طلحہؓ کی بیوی کا بھی ہے کہ انہوں نے تو اپنے بچے کے وصال کی اطلاع شوہر کے آنے کے بعد رات گزار کر صبح کے وقت دی، اس پر ان کے شوہر خوش ہوئے اور اس حسنِ سلوک کو سرکار دو عالمؐ سے عرض کیا تو آپؐ نے فرمایا: کیا تم نے اس رات جماع کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا ہاں! تو آپؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تم دونوں میں برکت دے (بخاری)۔
ہماری مائیں بہنیں اس واقعے سے سبق حاصل کریں، اپنے اندر ایسا جذبہ پیدا کریں کہ شوہر کو ہر معاملے میں تسلی دینے والی بنیں، خاص طور پر مصائب وحالات کے وقت تسلی دیا کریں۔
٭…٭…٭
بغیر اجازت نفل روزہ رکھنا
سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے، انہوں نے نبی کریمؐ سے نقل کیا ہے کہ آپؐ نے فرمایا: جب عورت کا شوہر اس کے پاس موجود ہو تو وہ اس کی بغیر اجازت نفلی روزہ نہ رکھے (بخاری)۔ اس حدیث پاک میں شوہر کے حقوق ادا کرنے کی طرف نظر رکھی گئی ہے، کیوں کہ ہو سکتا ہے کہ اچانک شوہر کوئی کام بتا دے یا کوئی ضرورت کا تقاضا کرے یا کچھ اور بھی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، ان تمام وجوہات کی طرف نظر رکھتے ہوئے پیارے رسولؐ نے نفلی روزے کو اجازت کے ساتھ رکھنے کا حکم فرمایا ہے۔ غور کا مقام ہے کہ یہاں پر شوہر کی اطاعت وفرماں برداری کی کس قدر عظمت معلوم ہوتی ہے کہ خاوند کا خیال رکھتے ہوئے دینی امور اور معبودِ حقیقی کی عبادت (فرائض کے علاوہ) میں تخفیف کرنے کا حکم دیا گیا ہے، فرض نمازوں میں بھی لمبی لمبی سورتیں تلاوت کرنے سے منع کیا گیا ہے، تاکہ خاوند کو تکلیف نہ ہو، یاد رہے کہ نفل روزہ وغیرہ کو خاوند کی اجازت پر جو موقوف رکھا گیا ہے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ خواتین حتمی ومستقل طور پر نفل عبادت ہی نہ کریں، بلکہ وہ شوہر کی اجازت سے نوافل کو ادا کرسکتی ہیں، مقصود شوہر کی اطاعت ہے اور نافرمانی اور ناشکری سے بچنا ہے، یہ الگ بات ہے کہ بیوی اگر شوہر سے اس طرح کے نفل عمل کرنے کی اجازت طلب کرنے تو عموماً انکار نہیں کرتے، بلکہ خوش ہو کر اجازت دیتے ہیں۔
٭…٭…٭
طلاق نہ دلوائیں
سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ نے فرمایا کہ کوئی عورت (کسی شخص سے) اپنی (دینی) بہن کے بارے میں یہ نہ کہے کہ اس کو طلاق دے دو اور اس عورت کو طلا ق دلوانے کا مقصد یہ ہو کہ وہ اس کے پیالے کو خالی کر دے (یعنی اس کو طلاق دلوا کر اس کے سارے حقوق خود سمیٹ لے اور اس سے خود نکاح کرلے) کیوں کہ اس کے لیے وہی ہے جو اس کے مقدر میں لکھا جا چکا ہے (بخاری)۔ یعنی اپنی نفس کی خاطر، محض تکمیل لذات کے لیے، سابقہ منکوحہ کو طلاق دلانا بڑی غلط اور معیوب بات ہے، مقدرات میں اللہ تعالیٰ نے جو لکھ دیا ہے وہ ہو کر رہتا ہے، اس طرح کی حرکات اور نظریات سے طرح طرح کے حالات پیش آتے ہیں، آباد گھر برباد ہوسکتا ہے اور کسی بھی بہن کے ساتھ ایسا معاملہ برتنے سے کیا ملے گا؟ اس لیے پیارے آقاؐ نے فرمایا: مومن وہی ہے جو اپنے بھائی کے لیے وہی چاہے جو اپنے لیے چاہتا ہے (مسلم)۔
مولانا محمد حبیب الرحمن
گلزار
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نے فرمایا انہوں نے بیوی نے ہے کہ ا کا حکم کیا ہے نے کہا اور اس کے لیے گیا ہے ہے اور
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔