ڈیرہ غازی خان: نجی اسپتال میں سنگین غفلت، مرد ڈینٹسٹ کے گائنی آپریشن سے حاملہ خاتون جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
ڈیرہ غازی خان میں نجی اسپتال کی انتظامیہ کی سنگین غفلت کے باعث ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں لیڈی سرجن کی موجودگی کے بغیر ایک مرد ڈینٹسٹ نے حاملہ خاتون کا گائنی آپریشن کر دیا، جو جان لیوا ثابت ہوا۔
ذرائع کے مطابق نجی اسپتال میں زچگی کے لیے لائی گئی خاتون کا آپریشن لیڈی ڈاکٹر کے بجائے ایک ڈینٹل ڈاکٹر نے کیا۔ دورانِ آپریشن پیچیدگیاں پیدا ہوئیں اور زیادہ خون بہنے کے باعث مریضہ جانبر نہ ہو سکی۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ صورتحال اس حد تک بگڑ گئی کہ آپریشن کرنے والا ڈاکٹر بھی بیہوش ہو کر گر پڑا، جسے بعد میں کیبن میں منتقل کیا گیا۔
ورثا کے مطابق انہوں نے بار بار لیڈی ڈاکٹر کو بلانے کی کوشش کی، تاہم مریضہ کی حالت تشویشناک ہونے کے باوجود وہ اسپتال نہیں پہنچیں۔ واقعے کے بعد لواحقین کے شدید احتجاج پر پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کی ٹیمیں اسپتال پہنچیں۔
تحقیقات کے دوران اسپتال انتظامیہ نے ریکارڈ فراہم کرنے سے انکار کیا جبکہ الزام ہے کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی ڈی وی آر بھی تبدیل کر دی گئی۔ تعاون نہ کرنے پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسپتال کو سیل کر دیا اور واقعے کی مکمل تحقیقات کا آغاز کر دیا۔
ڈی ایچ او نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور متاثرہ خاندان کو انصاف کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیرِ مملکت اور معاونِ خصوصی وزیراعظم حذیفہ رحمان نے بھی واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔