بلوچستان: شدید برفباری میں پھنسے شہریوں کو نکالنے کیلئےپاک فوج کا ریسکیو آپریشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
(سٹی 42) بلوچستان میں شدید برفباری کے دوران پاک فوج کا ریسکیو و بحالی آپریشن جاری ہے۔ پاک فوج نے ژوب کے مقام علاؤالدین پاس کو چھوٹی گاڑیوں کے لیے کھول دیا ۔
آئی ایس پی آر کےمطابق پاک فوج کے جوان بلوچستان کے علاقے ژوب میں شدید برفباری کے دوران امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں،شدید برفباری کے باعث پھنسے ہوئے مسافروں کو نکالنے کے لیے پاک فوج کا ریسکیو آپریشن اور پھنسی ہوئی گاڑیوں کو نکالنے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔برف باری میں پھنسے افراد کیلئے ایف سی بلوچستان (نارتھ) کی مختلف مقامات پر ٹریفک کنٹرول اور امدادی سرگرمیاں مؤثر انداز میں جاری ہیں۔
پنجاب میں ”اپنا کھیت،ا پنا روزگار پروگرام“ شروع کرنے کا فیصلہ
پاک فوج نے ژوب کے مقام علاؤالدین پاس کو چھوٹی گاڑیوں کے لیے کھول دیا ہے، پاک فوج کے جوان سخت موسمی حالات کے باوجود پھنسے ہوئے شہریوں اور گاڑیوں کو محفوظ طریقے سے نکالنے میں بھرپور مدد فراہم کر رہے ہیں۔
حکومت نے مری میں سیاحوں کیلئےنئی سہولت متعارف کروادی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: بلوچستان پاک فوج پاک فوج پاک فوج بلوچستان پاک فوج بلوچستان پاک فوج پاک فوج شہریوں پاک فوج
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔