ٹرمپ خطے پر نئی جنگ مسلط کر رہا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: تبدیلی کے لیے ایران میں فوجیں اتاری جائیں اور جب فوجیں ایران اتریں گی اور سینکڑوں تابوت ڈیلی امریکہ پہنچنے لگیں گے تو ٹرمپ کی موئے موئے ہو جانی ہے۔ ایران ایک وسیع ملک ہے امریکہ اور اسرائیل سب مل کر غزہ جیسے بہت ہی چھوٹے علاقے سے حماس کو ختم نہ کرسکے اور آخر میں جنگ بندی کرنا پڑی وہ ایران میں کیا خاک کامیاب ہوں گے؟ ایران میں کم از کم پچاس لاکھ نظریاتی لوگ جنگ کے لیے تیار ہیں۔ یہ صرف جغرافیہ نہیں نظریہ کی بھی جنگ ہے اس لیے پورے خطے کی مزاحمتی قوت سے ٹکرانا ہوگا۔ تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس
امریکی صدر ٹرمپ ناقابل اعتبار شخصیت ہیں۔ کوئی بھی تجزیہ نگار وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ ان کا اگلا اقدام کیا ہوگا؟ دنیا کی بڑی طاقت کے سربراہ کا ایسی شخصیت کا مالک ہونا دنیا کے لیے خطرناک ہے۔ اس سے ہر وقت غیر یقینی کی فضا بنی رہتی ہے اور خطوں میں استحکام نہیں آتا۔ ٹرمپ ڈیوس میں ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کے لیے آ رہا تھا تو پتہ نہیں تھا کہ یہ وہاں کیا اعلان کرے گا۔ گرین لینڈ پر حملے کا حکم دے دے گا یا کوئی اور حکمت عملی اختیار کرے گا؟ اس کا سٹاک ایکسچینج میں نقد نتیجہ یہ نکلا کہ منگل کے روز انڈیکس ایس اینڈ پی 500 تقریباً 2.
خطے کی صورت حال بڑی تیزی سے جنگی ہو رہی ہے۔ اس وقت خلیج جنگ اور عراق جنگ سے زیادہ تعداد میں امریکی افواج مشرق وسطیٰ پہنچ گئی۔ گذشتہ 36 گھنٹوں میں امریکہ نے 12 واں C-17 گلوب ماسٹر فوجی کارگو طیارہ ایران کے گرد فوجی اڈوں میں متعین کردیا۔ ایسا ایک طیارہ 77 ٹن ہتھیار اٹھا سکتا ہے جبکہ دیگر جاسوس طیارے، اواکس، الیکٹرانک وارفیئر طیارے، ڈرونز، جنگی طیارے بمبار طیارے، ائیر رفیولر ٹینکرز طیارے، طیارہ بردار بحری جہاز اور ایٹمی آبدوزوں کی وسیع تعداد بھی بھجوائی جاچکی ہے۔ 21 جنوری کی شام چینی جاسوس سٹیلائٹ نے اردن میں واقع ائربیس پر موجود امریکی فضائیہ کے اثاثوں کی تفصیلات لیک کردیں جس میں وہاں بڑی تعداد میں فوجی تیاریاں دیکھی گئی ہیں۔ یہ بیس ایرانی سرحد سے 900 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اسی طرح تاریخ میں پہلی بار ترکمانستان کی سرحد بھی مشکوک ہو چکی ہے، امارات سے اسرائیل جانے والے دو امارتی فوجی کارگو طیارے فوجی ساز و سامان ترکمانستان پہنچا رہے ہیں۔ امریکی عہدیداروں کے بیانات اور بین الاقوامی تجزیہ نگاروں کے تجزیے بھی انہی اقدامات کی روشنی میں تبدیل ہو رہے ہیں اور لوگ خطے میں ایک نئی امریکی جنگ کے بادل منڈلاتے دیکھ رہے ہیں۔
ٹرمپ کی ابھی تک کی پالیسیوں کو بغور دیکھا جائے تو اس کی حکمت عملی یہ لگتی ہے کہ یہ حیران کن حد تک میڈیا کا استعمال جنگی ہتھیار کے طوپر کرتا ہے۔ یہ دنیا میں ایسا ماحول پیدا کر دیتا ہے کہ جس موضوع پر بھی بات کرتا ہے دنیا بھر کا میڈیا اسی کے پیچھے لگ جاتا ہے اور پھر یہ فوجی اور ٹیرف کی طاقت کو دکھانا شروع کر دیتا ہے۔ فوجیں حرکت میں آجاتی ہیں اور ٹیرف پر عملی اقدامات شروع ہو جاتے ہیں۔ مقابل کو اتنا پریشان کر دیتا ہے کہ اسے منٹوں میں فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ابھی تازہ گرین لینڈ کے معاملے کو ہی دیکھ لیں کیسے یورپ کے ساتھ تعلقات اور نیٹو تک کو زیر سوال کر دیا۔ یہ امن کا چمپئن بننے کا بھی شوقین ہے ابھی تازہ تازہ کل ہی اس نے بورڈ آف پیس بنایا ہے، یہ عملی طور پر بھی یہی رہے تو ٹھیک ہے جس کے رہنے کا امکان نہیں ہے کیونکہ کسی بھی وقت اسے بورڈ آف وار میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ سفارتی دنیا میں یہ طرز عمل زیادہ دیر نہیں چلتا، یورپ سے ہی ہلکا ہلکا میوزک شروع ہو چکا ہے۔ اسی ورلڈ اکنامک فورم میں کینیڈا کے وزیراعظم نے کافی کچھ کہا ہے۔ فرانس کے صدر اور برطانیہ کے وزیراعظم بھی عوام کے سامنے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ہم آزاد ہیں، اس طرح کے اقدامات کا ردعمل آتا ہے اور بہت دیرپا ہوتا ہے۔
راجہ مبین اللہ خان تجزیہ نگار ہیں اور خوب لکھتے ہیں۔ رقمطرار ہیں کہ ٹرمپ کی جانب سے فرانسیسی شراب پر ٹیرف کی دھمکی اور گرین لینڈ پر جارحانہ دباؤ کے بعد یورپی یونین نے سخت معاشی جواب دیا ہے۔ برسلز نے اعلان کیا ہے کہ یورپی کمپنیاں امریکی بانڈز اور اثاثے جن کی مالیت تقریباً 8.1 ٹریلین ڈالر ہے فروخت کریں گی، تمام تجارتی معاہدے روک دیئے جائیں گے اور سب سے اہم یہ کہ امریکہ اور یورپ کے درمیان تمام دفاعی معاہدے معطل کر دیئے گئے ہیں۔ اس اقدام سے امریکی ڈالر پر شدید دباؤ پڑے گا، سود کی شرحیں بڑھیں گی اور یورپ امریکی فوجی نظام سے الگ ہو کر اپنی آزاد دفاعی حکمت عملی کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ٹرمپ تاجر ہے اور تاجر جنگ بھی تجارت کی طرح کرتے ہیں، ان کے لیے اس میں فائدہ ہونا چاہیئے۔ ایک فائدہ تو یہ ہے کہ امریکہ کی جنگی معیشت ہے جس کو اس سے فائدہ ہوگا اس لیے جنگ سے منسلک لوگ اس کی حمایت میں ہیں۔ اسرائیل ہر صورت میں یہ چاہتا ہے کہ حملہ کیا جائے اور یوں اس صورت میں بھی نہر سویز سمیت اس خطے کے معاشی امکانات ٹرمپ کے لیے ہوں گے۔
ٹرمپ کو خدشہ ہے کہ اگر جنگ لمبی ہوگئی تو کیا میں بھی ویت نام کی طرح یہاں پھنس تو نہیں جاؤں گا؟ ایک لمبی جنگ کسی بھی امریکی صدر کے لیے ڈروانا خواب ہے۔ ان کی نظریں ایران کے وسائل پر ہیں اور یہ ہر صورت میں انہیں ہتھیانا چاہتے ہیں مگر جنگ کی بجائے یہ چاہیں گے کہ مقامی کرائے کے قاتلوں کی خدمات حاصل کی جائیں اور ان کے ذریعے جب یہ یقین ہو جائے کہ کامیابی یقینی ہے تو حملہ کیا جائے، یہ تو ساری ان کی باتیں اور ان کا پروگرام ہے۔ اس بار ایران میں کافی سرپرائز ان کے منتظر ہیں، اندرونی باغی گروہ وقت سے پہلے ظاہر ہو کر بے نقاب ہو چکے ہیں اور ایرانی عوام نے کروڑوں کی تعداد میں انقلاب اسلامی کی حمایت کر کے بتا دیا ہے کہ سٹریٹ انقلاب کے ساتھ ہے۔
تبدیلی کے لیے ایران میں فوجیں اتاری جائیں اور جب فوجیں ایران اتریں گی اور سینکڑوں تابوت ڈیلی امریکہ پہنچنے لگیں گے تو ٹرمپ کی موئے موئے ہو جانی ہے۔ ایران ایک وسیع ملک ہے امریکہ اور اسرائیل سب مل کر غزہ جیسے بہت ہی چھوٹے علاقے سے حماس کو ختم نہ کرسکے اور آخر میں جنگ بندی کرنا پڑی وہ ایران میں کیا خاک کامیاب ہوں گے؟ ایران میں کم از کم پچاس لاکھ نظریاتی لوگ جنگ کے لیے تیار ہیں۔ یہ صرف جغرافیہ نہیں نظریہ کی بھی جنگ ہے اس لیے پورے خطے کی مزاحمتی قوت سے ٹکرانا ہوگا۔ ٹرمپ صاحب کہیں روس اور چین آپ کو پھنسا تو نہیں رہے؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ جیسے افغانستان میں شکست سوویت یونین کا اختتام ثابت ہوئی، ایران پر آپ کا حملہ امریکہ کے بطور سپر پاور اختتام کا باعث بن جائے۔ آپ کے پیس بورڈ پر آپ کے دوست ایلون مسک نے خوب کہا کہ میں نے Ghaza Peace board اجلاس کا سنا، یہ Peace نہیں غالباً (ٹکڑے) PIECE اجلاس ہے۔ گرین لینڈ کا تھوڑا سا PIECE، وینزویلا کا تھوڑا سا PIECE۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گرین لینڈ ایران میں کے لیے ا رہے ہیں ٹرمپ کی ہیں اور ہے اور
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔