Peace یا Piece ؟ ایلون مسک کی ’بورڈ آف پیس‘ پر ٹرمپ سے طنزیہ چھیڑچھاڑ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
ایلون مسک کے اس طنزیہ بیان سے عالمی اقتصادی فورم میں موجود حاضرین کی ہنسی چھوٹ گئی اور یہ بیان کسوشل میڈیا پر بھی تیزی سے وائرل ہوگیا، جس پر ایلون مسک نے وضاحت دی کہ وہ دراصل امن کے مقصد کو ہی سپورٹ کرتے ہیں مگر نام اور عمل میں تضاد اُنھیں دلچسپ لگا۔ اسلام ٹائمز۔ ایلون مسک امریکی صدر پر تنقید اور طنز کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور ایسا ہی کچھ انھوں نے ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے قیام پر بھی کیا۔ دنیا کے امیرترین شخصیات میں سے ایلون مسک امریکی صدارتی الیکشن میں ڈونلڈ ٹرمپ کی مالی اور سیاسی حمایت کرکے ان کے قریبی دوست اور اتحادی رہے ہیں۔ جس کا صلہ ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر بنتے ہی ایلون مسک کو ایک اہم وزارت سونپ کر دیا لیکن یہ قربت چند ماہ بعد ہی رقابت میں بدل گئی۔ ایلون مسک نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا اور اس کے بعد سے وہ ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید اور طنز کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ اس وقت عالمی سطح پر ہر جانب ڈونلڈ ٹرمپ کے تشکیل کردہ بورڈ آف پیس کی گونج ہے جس میں 20 ممالک شمولیت حاصل کرچکے ہیں اور ٹرمپ اسے اپنی بڑی کامیابی قرار دیتے ہیں۔
ایلون مسک اس موقع پر خاموش کیسے رہ سکتے تھے۔ انھوں نے عالمی اقتصادی فورم میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس پر طنزیہ انداز میں تنقید کا نشانہ بنایا۔ ایلون مسک نے ہنستے ہوئے کہا کہ جب پہلی بار اس کے بارے میں سنا تو لگا کہ یہ Peace یعنی امن نہیں بلکہ Piece یعنی ٹکڑا کی بات ہو رہی ہے مثلاً گرین لینڈ یا وینزویلا کا کوئی ٹکڑا۔ ایلون مسک کے اس طنزیہ بیان سے عالمی اقتصادی فورم میں موجود حاضرین کی ہنسی چھوٹ گئی اور یہ بیان کسوشل میڈیا پر بھی تیزی سے وائرل ہوگیا، جس پر ایلون مسک نے وضاحت دی کہ وہ دراصل امن کے مقصد کو ہی سپورٹ کرتے ہیں مگر نام اور عمل میں تضاد اُنھیں دلچسپ لگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایلون مسک نے بورڈ ا ف پیس ڈونلڈ ٹرمپ
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔