ٹرمپ نے کینیڈا کو بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت واپس لے لی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کو بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت واپس لے لی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ بورڈ آف پیس دنیا کے بااثر ترین رہنماؤں کا فورم ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی کا بورڈ میں مزید خیرمقدم نہیں کیا جائے گا۔
اپنی پوسٹ میں امریکی صدر نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کینیڈا کے وزیراعظم کو دی گئی دعوت کیوں واپس لے رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیراعظم مارک کارنی نے بورڈ آف پیس پر تشویش کا اظہار کیا۔
کینیڈین وزیراعظم نے ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب میں امریکی صدر ٹرمپ کے اس بیان کی تردید کی تھی جس میں صدر نے کہا تھا کہ ’کینیڈا امریکا کی وجہ سے زندہ ہے۔‘
مارک کارنی نے کہا تھا کہ کینیڈا امریکا کہ وجہ سے زندہ نہیں بلکہ کینیڈا اس لیے ترقی کرتا ہے کیونکہ ہم کینیڈین ہیں۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر کی جانب سے واپس لیے گئے دعوت نامے نے ٹرمپ اور کارنی کے درمیان تعلقات مزید خراب کردیے ہیں۔
وزیراعظم مارک کارنی ڈنمارک سے گرین لینڈ کا کنٹرول لینے کی صدر ٹرمپ کی کوشش کی مخالفت کرتے ہیں اور نیٹو کے دیگر اتحادیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان پر کینیڈین وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر مارک کارنی کی صدر
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔