امریکا کا مشرق وسطیٰ میں طیارہ بردار بحری بیڑہ اور دیگر عسکری اثاثے تعینات کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر اپنے بحری بیڑے اور دیگر عسکری اثاثے خطے میں تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد دفاعی پوزیشن کو مزید مضبوط بنانا بتایا جا رہا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے نے بتایا ہے کہ امریکی بحریہ کا طیارہ بردار جہاز USS Abraham Lincoln اور اس کے ساتھ دیگر عسکری اثاثے آئندہ چند روز میں مشرقِ وسطیٰ پہنچیں گے، حکام کا کہنا ہے کہ اس تعیناتی کا مقصد اتحادیوں کو یقین دہانی کرانا اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا مؤثر جواب دینے کی صلاحیت برقرار رکھنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے اس موقع پر یہ بھی واضح کیا ہے کہ موجودہ حالات میں براہِ راست فوجی کارروائی کو ترجیح نہیں دی جا رہی، تاہم خطے میں امریکی افواج کی موجودگی دفاعی نوعیت کی ہوگی تاکہ کشیدگی میں مزید اضافہ روکا جا سکے۔
عسکری تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے اس سطح کی فوجی تعیناتی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ واشنگٹن مشرقِ وسطیٰ میں سلامتی کی صورتحال کو سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق آئندہ پیش رفت کا دارومدار سفارتی کوششوں اور علاقائی حالات پر ہوگا، جو خطے میں امن یا مزید تناؤ کی سمت کا تعین کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔