Jasarat News:
2026-06-03@03:36:50 GMT

ٹک ٹاک کے امریکی آپریشنز کی فروخت کا معاہدہ طے پاگیا

اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

چین کی معروف ٹیک کمپنی بائیٹ ڈانس کے زیر انتظام دنیا کی مقبول ترین مختصر ویڈیو شیئرنگ ایپلیکیشن ٹک ٹاک نے اعلان کیا ہے کہ اس نے امریکا میں اپنے بزنس آپریشنز کی فروخت کے لیے معاہدہ طے کر لیا ہے، جس سے طویل عرصے سے ٹک ٹاک پر عائد ممکنہ پابندی کا خطرہ ختم ہو گیا ہے۔

یہ معاہدہ ٹک ٹاک کی سرپرست کمپنی بائیٹ ڈانس نے کیا ہے، جس کے تحت ایک نئی امریکی کمپنی قائم ہوگی، جہاں امریکی سرمایہ کاروں کو اکثریتی حصص حاصل ہوں گے۔ اس نئے ڈھانچے میں اوریکل، سلور لیک اور متحدہ عرب امارات کی کمپنی ایم جی ایکس کو 80.

1 فیصد حصص حاصل ہوں گے، جبکہ بائیٹ ڈانس کے پاس 19.9 فیصد حصص رہیں گے۔

ٹک ٹاک کے مطابق نئی کمپنی میں ایڈم پریسر، جو گلوبل ہیڈ آف آپریشنز اینڈ ٹرسٹ اینڈ سیفٹی ہیں، چیف ایگزیکٹو کے طور پر کام کریں گے، جبکہ بورڈ میں ٹک ٹاک کے موجودہ چیف ایگزیکٹو شاؤ چیو بھی شامل ہوں گے۔

کمپنی امریکی ڈیٹا کی سلامتی اور قومی مفادات کے مطابق کام کرے گی اور مواد تجویز کرنے والا الگورتھم برقرار رہے گا لیکن امریکی صارفین کے ڈیٹا کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔

ٹک ٹاک پر پابندی کا پہلا خطرہ پانچ سال قبل ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی صدارتی مدت کے دوران پیدا ہوا تھا، جب انہوں نے ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا، 2024 میں ایوان نمائندگان نے امریکی شاخ پر پابندی لگانے کے قانون کی منظوری دی، اور امریکی سپریم کورٹ نے اسے برقرار رکھا۔

تاہم ٹرمپ نے اپنی دوسری صدارتی مدت کے آغاز میں اس پابندی کو ایک ایگزیکٹو آرڈر کے تحت مؤخر کیا اور بعد ازاں متعدد بار معاہدے کے لیے مذاکرات جاری رہے۔

ستمبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اور ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے، جس میں امریکی سرمایہ کاروں کو ٹک ٹاک خریدنے کے لیے ایک منصوبے کا ذکر کیا گیا تھا۔

وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار کے مطابق چینی اور امریکی حکومتوں نے اس معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، حالانکہ چینی حکومت کی جانب سے ابھی کوئی رسمی بیان جاری نہیں ہوا۔ صدر ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں چینی ہم منصب کا شکریہ ادا کیا۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے مطابق ٹک ٹاک

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا