ٹک ٹاک کے امریکی آپریشنز کی فروخت کا معاہدہ طے پاگیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
چین کی معروف ٹیک کمپنی بائیٹ ڈانس کے زیر انتظام دنیا کی مقبول ترین مختصر ویڈیو شیئرنگ ایپلیکیشن ٹک ٹاک نے اعلان کیا ہے کہ اس نے امریکا میں اپنے بزنس آپریشنز کی فروخت کے لیے معاہدہ طے کر لیا ہے، جس سے طویل عرصے سے ٹک ٹاک پر عائد ممکنہ پابندی کا خطرہ ختم ہو گیا ہے۔
یہ معاہدہ ٹک ٹاک کی سرپرست کمپنی بائیٹ ڈانس نے کیا ہے، جس کے تحت ایک نئی امریکی کمپنی قائم ہوگی، جہاں امریکی سرمایہ کاروں کو اکثریتی حصص حاصل ہوں گے۔ اس نئے ڈھانچے میں اوریکل، سلور لیک اور متحدہ عرب امارات کی کمپنی ایم جی ایکس کو 80.
ٹک ٹاک کے مطابق نئی کمپنی میں ایڈم پریسر، جو گلوبل ہیڈ آف آپریشنز اینڈ ٹرسٹ اینڈ سیفٹی ہیں، چیف ایگزیکٹو کے طور پر کام کریں گے، جبکہ بورڈ میں ٹک ٹاک کے موجودہ چیف ایگزیکٹو شاؤ چیو بھی شامل ہوں گے۔
کمپنی امریکی ڈیٹا کی سلامتی اور قومی مفادات کے مطابق کام کرے گی اور مواد تجویز کرنے والا الگورتھم برقرار رہے گا لیکن امریکی صارفین کے ڈیٹا کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔
ٹک ٹاک پر پابندی کا پہلا خطرہ پانچ سال قبل ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی صدارتی مدت کے دوران پیدا ہوا تھا، جب انہوں نے ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا، 2024 میں ایوان نمائندگان نے امریکی شاخ پر پابندی لگانے کے قانون کی منظوری دی، اور امریکی سپریم کورٹ نے اسے برقرار رکھا۔
تاہم ٹرمپ نے اپنی دوسری صدارتی مدت کے آغاز میں اس پابندی کو ایک ایگزیکٹو آرڈر کے تحت مؤخر کیا اور بعد ازاں متعدد بار معاہدے کے لیے مذاکرات جاری رہے۔
ستمبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اور ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے، جس میں امریکی سرمایہ کاروں کو ٹک ٹاک خریدنے کے لیے ایک منصوبے کا ذکر کیا گیا تھا۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار کے مطابق چینی اور امریکی حکومتوں نے اس معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، حالانکہ چینی حکومت کی جانب سے ابھی کوئی رسمی بیان جاری نہیں ہوا۔ صدر ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں چینی ہم منصب کا شکریہ ادا کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔