ڈی آئی خان: امن کمیٹی کے سربراہ نور عالم محسود کے گھر دھماکا، متعدد افراد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
ڈی آئی خان میں قریشی موڑ کے قریب امن کمیٹی کے سربراہ نور عالم محسود کے گھر دھماکا ہوا ہے۔ پولیس کے مطابق دھماکا شادی کی تقریب کے دوران پیش آیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں جبکہ جانی نقصان کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: کابل کے چینی ریسٹورنٹ میں دھماکا، داعش نے ذمہ داری قبول کرلی
پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے کی نوعیت کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں اور یہ خودکش حملہ بھی ہو سکتا ہے تاہم حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ دھماکے کے بعد زخمیوں کو فوری طور پر ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹانک: پولیس کی بکتر بند گاڑی کے قریب دھماکا، 5 اہلکار شہید
واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں جبکہ مزید تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
دھماکا، ڈی آئی خان نور عالم محسود.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: دھماکا ڈی آئی خان نور عالم محسود
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔