اسلام ٹائمز: صدر ٹرمپ کی قیادت میں اسرائیل کی سلامتی کے لیے اس سے قبل بھی اس طرح کی کوششیں کی گئی ہیں۔ جب سے اسرائیل نے جنم لیا ہے امریکہ کو اس کی سلامتی کے حوالے سے بہت زیادہ فکر ہے۔ اگرچہ اس بچے کا پہلا باپ تو برطانیہ ہے لیکن اس کے بعد اب امریکہ برطانیہ سے بڑھ کر اس کا باپ بنا ہوا ہے۔ اسرائیل کے کتنے باپ ہیں؟ یہ آج کا سوال نہیں ہے۔ آج کا سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اسرائیل کے بیٹے کتنے ہیں؟ امریکہ کے دل میں اپنے اس شرارتی بچے کی محبت اس قدر شدید ہے کہ اس نے اس کی خاطر پورے زمانے کی دشمنی مول رکھی ہے۔ تحریر: پروفیسر سید تنویر حیدر نقوی
آج کل ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں اور اسرائیل کی مشارکت سے ایک ”بورڈ آف پیس“ (Board of Peace) کا ذکر عام ہے۔ اس بورڈ کی تشکیل کے حوالے سے اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قدم بوسی میں اپنے اقتدار کی سلامتی ڈھونڈنے والے انہیں ”امن کے پیمبر“ کا بھی ٹائٹل دے دیں تو یہ اچنبے کی بات نہیں ہوگی۔ آخر امن کے نوبل کے انعام کے لیے بھی تو ان کی نامزدگی کا شرف پانے والے کئی خوشبخت موجود ہیں۔ اس اعزاز کے ساتھ ہی ایک اور اعزاز کی بھی بات ہو رہی ہے جو ٹرمپ کو حاصل ہونے والے اعزاز سے ہی جڑا ہے اور وہ اعزاز ہے، ٹرمپ کے اعزاز کی راہ ہموار کرنے کا اعزاز۔ اس کے علاوہ بھی ایک اعزاز ہے جسے ہر ”محب وطن پاکستانی“ حاصل کر سکتا ہے اور وہ اعزاز ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعزاز کا رستہ ہموار کرنے والوں کی مدح خوانی کا اعزاز۔
”یہ رتبہء بلند ملا جس کو مل گیا“
صدر ٹرمپ کی قیادت میں اسرائیل کی سلامتی کے لیے اس سے قبل بھی اس طرح کی کوششیں کی گئی ہیں۔ جب سے اسرائیل نے جنم لیا ہے امریکہ کو اس کی سلامتی کے حوالے سے بہت زیادہ فکر ہے۔ اگرچہ اس بچے کا پہلا باپ تو برطانیہ ہے لیکن اس کے بعد اب امریکہ برطانیہ سے بڑھ کر اس کا باپ بنا ہوا ہے۔ اسرائیل کے کتنے باپ ہیں؟ یہ آج کا سوال نہیں ہے۔ آج کا سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اسرائیل کے بیٹے کتنے ہیں؟ امریکہ کے دل میں اپنے اس شرارتی بچے کی محبت اس قدر شدید ہے کہ اس نے اس کی خاطر پورے زمانے کی دشمنی مول رکھی ہے۔
جب سے تو نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے
سنگ ہر شخص نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے
اسرائیل کی بقا کے لیے کئے گئے معاہدوں کی ایک تاریخ ہے۔ ایسے معاہدوں میں سے سب سے اہم معاہدہ ”کیمپ ڈیوڈ “ کا معاہدہ تھا۔ اس معاہدے کے فریقین میں امریکہ اسرائیل اور مصر شامل تھے۔ آج جس نوعیت کے امن ایوارڈ کے حقدار ڈونلڈ ٹرمپ ٹھہرائے گئے ہیں، اسی سے ملتا جلتا ایک ایوارڈ مصر کے صدر انور سادات کو بھی ملا تھا۔ لیکن اس ایوارڈ نے ان کے لیے سجھائے گئے سلامی کے چبوترے کو تختہء دار میں بدل دیا تھا۔ انور سادات کو اسرائیل کو تسلیم کرنے اور 1979ء کے امن معاہدے (1979ء) پر دستخط کرنے کی وجہ سے 1978ء میں نوبل امن انعام سے نوازا گیا۔ تاہم، اس اقدام پر عرب دنیا میں مصر کی شدید مخالفت ہوئی اور سادات کو اپنے ہی ملک میں اس معاہدے کے مخالفین نے 1981ء میں قتل کر دیا۔
کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے دوسرے فریق اسرائیلی وزیرِاعظم میناچم بیگن تھے۔ انہوں نے سادات کے ساتھ مشترکہ طور پر 1978ء کا نوبل امن انعام جیتا۔ معاہدے کے تحت اسرائیل نے صحرائے سینا واپس کر دیا۔ بیگن کو داخلی سطح پر آبادکاروں کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور لبنان جنگ کے بعد وہ سیاسی طور پر کمزور ہو کر مستعفی ہوگئے۔ صدر کارٹر نے اس معاہدے میں ثالث کا اہم کردار ادا کیا۔ اس معاہدے نے اگرچہ مصر کو واپس سینا دلایا اور اسرائیل کو ایک عرب ملک سے تسلیم کروایا، لیکن فلسطینی مسئلہ وہیں کا وہیں رہا۔
”ظلم رہے اور امن بھی ہو“
2000ء میں ہونے والی دوسری کیمپ ڈیوڈ سربراہی کانفرنس (بل کلنٹن، یاسر عرفات، ایہود بارک) بھی بے نتیجہ ہی رہی، البتہ فلسطینیوں کی دوسری انتفاضہ تحریک ضرور شروع ہوئی۔ آج بھی مسلم دنیا کے جو حکمران ڈونلڈ ٹرمپ کے بنائے ہوئے بورڈ میں اپنے لیے کوئی خیر کا پہلو ڈھونڈ رہے ہیں وہ اس کے متوقع اور غیر متوقع دونوں طرح کے نتائج کا سامنا کرنے کے لیے اپنے آپ کو ہمہ وقت تیار رکھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کی سلامتی کے اسرائیل کی ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کے اس معاہدے معاہدے کے میں اپنے ہے کہ اس ٹرمپ کی کے لیے
پڑھیں:
امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز