حکومتی اقدمات کے مثبت ثمرات موصول ہونے لگ گئے ہیں، سربراہ آئی ایم ایف سربراہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومتی اصلاحات کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلی مرتبہ بجٹ ڈسپلن دیکھنے میں آیا ہے اورحکومتی اقدمات کے مثبت ثمرات موصول ہونے لگ گئے ہیں۔
ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر قیادت حکومت کی معاشی اصلاحات کی تعریف کی اور کہا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی تہہ دل سے عزت کرتی ہوں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان میں مثبت تبدیلی و ترقی کے لیے سنجیدہ ہیں، شہباز شریف جب کسی کام کو کرنے کی ٹھان لیں تو پھر اسے مکمل کرکے ہی چھوڑتے ہیں، ہماری متعدد بار ملاقاتیں ہوئی ہیں، ملاقاتوں میں پہلے سے متعین کردہ اہداف کے حصول اور ترقی کے مزید اہداف پر گفتگو ہوتی ہے۔
کرسٹالینا جارجیوا نے کہا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف اور ان کی کابینہ کی پاکستان کی ترقی کے لیے سنجیدگی اور پاکستان کی بہتری کے لیے مشکل اصلاحات کے ایجنڈے کے نفاذ کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہوں۔
انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پاکستان کے ساتھ کافی عرصے سے مثبت انداز میں کام کر رہا ہے، پاکستانی حکومت سنجیدگی سے اصلاحات کا نفاذ کر رہی ہے اور حکومتی اقدمات کے مثبت ثمرات موصول ہونے لگ گئے ہیں۔
آئی ایم ایف کی سربراہ نے کہا کہ پہلی مرتبہ بجٹ ڈسپلن دیکھنے میں آیا ہے اور عوام کی زندگی میں مثبت تبدیلی کے لیے وسائل خرچ کیے جارہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آئی ایم ایف شہباز شریف نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔