گل پلازہ آتشزدگی، عمارت کے ملبے سے 70 تولہ سونا برآمد، اصل کے حوالے کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں حالیہ ہولناک آتشزدگی کے سانحے کے دوران جاری ریسکیو اور سرچ آپریشن میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، متاثرہ عمارت کے ملبے اور ایک دکان سے 70 تولہ سونا برآمد ہوا۔
یہ بھی پڑھیں:گل پلازہ کی عمارت سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ جاری، اہم انکشافات سامنے آگئے
ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی کھوسو نے بتایا کہ برآمد شدہ سونے کی تصدیق اور قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد اسے اصل مالک کے حوالے کر دیا گیا۔
کراچی سانحہ گل پلازہ اپڈیٹ
گل پلازہ کی متاثرہ عمارت سے ریسکیو آپریشن کے دوران ایک دکان سے 70 تولہ سونا برآمد ہوا، جسے قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد اصل مالک کے حوالے کر دیا گیا pic.
— Shahid Hussain (@ShahidHussainJM) January 23, 2026
یہ واقعہ گل پلازہ آتشزدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جہاں ریسکیو ٹیمیں اب بھی ملبہ ہٹانے، لاپتا افراد کی تلاش اور دیگر کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
اس سے قبل ملبے سے ڈیڑھ کلو سونا اور نقدی بھی ملی تھی، جس کی مالیت کروڑوں روپے بتائی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گل پلازہ کے واقعے کو 18ویں ترمیم سے جوڑنا سمجھ سے باہر ہے، ہر دکاندار کو 5، 5 لاکھ روپے دیں گے، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ
یہ اقدام ضلعی انتظامیہ کی جانب سے شفافیت اور امانتداری کو یقینی بنانے کی ایک مثال ہے، خاص طور پر جب عمارت میں جواہرات کی دکانیں موجود تھیں اور سانحے نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news سونا گل پلازہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔