گل پلازہ کےتمام دکانداروں کو 5،5 لاکھ روپے دیے جائیں گے، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ گل پلازہ آتشزدگی سے تاجروں کے نقصان کا ازالہ کیا جائے گا، صوبائی حکومت ہر تاجر کو 5،5 لاکھ روہے دے گی۔
سندھ اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ گل پلازہ کی عمارت کی لیز ختم ہونے سے متعلق دعوے غلط ہیں اور اس سانحے کو بلاوجہ سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے۔
نجی ٹی وی پر نشر ہونے والی گفتگو میں مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ گل پلازہ کی عمارت کا ذوالفقار علی بھٹو یا آصف علی زرداری سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی یہ عمارت 1983 یا 1984 میں قائم کی گئی تھی۔ ان کے مطابق گل پلازہ کی اصل عمارت مختلف ادوار میں تعمیر اور ریگولرائز کی گئی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ گل پلازہ کی ابتدائی لیز 1884 میں 99 سال کے لیے دی گئی تھی، جو 1983 میں مکمل ہوئی، تاہم اس کے بعد لیز کی تجدید نہیں کی گئی۔ بعد ازاں 1991 میں 18 سال کے لیے نئی لیز دی گئی، جو 2001 میں ختم ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ 2001 میں ایک بار پھر لیز میں 18 سال کی توسیع کی گئی۔
مراد علی شاہ کے مطابق گل پلازہ کی عمارت کی تعمیر مختلف مراحل میں ہوئی، ایک عمارت 1998 میں تعمیر کی گئی جسے باقاعدہ طور پر ریگولرائز کیا گیا، جبکہ بعض حصے 1991 میں بنائے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہونے والے اقدامات کو موجودہ حکومت یا 18ویں ترمیم سے جوڑنا درست نہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ گل پلازہ کے سانحے کا ذمہ دار کسی ایک فرد یا سیاسی جماعت کو قرار دینا حقائق کے منافی ہے اور یہ تمام فیصلے 18ویں ترمیم سے پہلے کے ادوار میں کیے گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت ماضی کی بدانتظامی کے نتائج سے نمٹ رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گل پلازہ آتشزدگی کے واقعے میں جاں بحق افراد کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کا عمل جاری ہے، جبکہ متعدد لاشیں نکالی جا چکی ہیں اور کچھ افراد تاحال لاپتا ہیں۔ حکومت واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے تاکہ اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت متاثرہ خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور ذمہ داران کے تعین کے بعد قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: مراد علی شاہ کہ گل پلازہ گل پلازہ کی کے لیے نے کہا کی گئی
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔