وزیر اعلیٰ سندھ غفلت کے مرتکب، 18سال کا حساب دیں، فاروق فرحان
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260124-01-8
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ اسمبلی کے اجلاس میں جمعہ کو وزیر اعلیٰ سندھ کے خطاب کے دوران جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر محمد فاروق فرحان اپنی نشست سے اٹھ کر کھڑے ہوگئے اور بولنا شروع کردیا انہوں نے کہا کہ 6دن کے بعد آج سندھ کے حکمرانوں کو ایوان میں آنے کی فرصت ملی ہے کہ اسمبلی کو اعتماد میں لیا جائے۔ فاروق فرحان نے کہا کہ سی ایم صاحب غلط بیانی کررہے ہیں یہ غلط اعداد و شمار پیش کررہے ہیں ڈی سی جائے حادثہ پر نہیں پہنچا تھا۔ وزیر اعلیٰ صاحب خود غفلت کے مرتکب ہوئے ہیں، 18سال کا حساب دیں۔ اسپیکر نے کہا کہ فاروق صاحب آپ بیٹھ جائیں، وزیر اعلیٰ کی تقریر ختم ہونے کے بعد جماعت اسلامی کے رکن اور ایم کیو ایم کے ارکان نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور شور شرابہ شروع کردیا جس پر اسپیکر نے کہا کہ آپ بیٹھ جائیں اور رولز کو فالو کریں ، مجھے ڈکٹیٹ نہ کریں،تمام اراکین کو وقت ملے گا۔ بعدازاں وقفہ سوالات کے دوران جب اسپیکر نے سوال کرنے کیلیے محمد فاروق کا نام پکارا تو فاروق فرحان نے کہا کہ میں احتجاجاً سوال نہیں کرتا بیٹھ جاتا ہوں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فاروق فرحان وزیر اعلی نے کہا کہ
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔