امریکا نے ایران کی جانب بڑی فورس روانہ کردی، جنگی بحری جہاز اور طیارے شامل
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260124-01-20
واشنگٹن/ تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) مریکا نے ایران کی جانب بڑی فورس روانہ کردی جس میں جنگی بحری جہاز اور طیارے بھی شامل ہیں، صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ تہران پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے، احتیاطی طور پر فورس تعینات کی جارہی ہے ، دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے جبکہ پاسداران انقلاب گارڈز کے سربراہ کا کہنا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں فوری جواب دیں گے، دشمن غلط فہمی میں نہ رہیں، ہمارا ہاتھ ہتھیاروں کے ٹریگر پر ہے۔ تفصیلات کے مطابق امریکا نے ایران کی جانب بڑی فورس روانہ کردی جس میں جنگی بحری جہاز اور طیارے شامل ہیں۔ ائر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہماری بڑی فورس ایران کی جانب رواں دواں ہیں، بہت سے جہاز ایران کی طرف جا رہے ہیں اور ہم ایران کے قریب احتیاطی طور پر فورس تعینات کررہے ہیں،دیکھتے ہیں کہ آگے کیا ہوتا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا انہوں نے ایران پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے، ایران کو کہا تھاکہ اگرپھانسیاں دیں توکارروائی کریں گے، میری دھمکی کے بعد ایران نے پھانسیاں منسوخ کردیں۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اس فوجی نقل و حرکت کا مطلب یہ نہیں کہ امریکا لازمی طور پر فوجی کارروائی کرے گا۔ غیر ملکی میڈیا نے امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک کیریئر اسٹرائیک گروپ اور دیگر فوجی مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ ہوچکے ہیں اور اس میں طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن، جنگی بحری جہاز اور جنگی طیارے شامل ہیں۔ علاوہ ازیں ایرانی پاسداران انقلاب گارڈز کے سربراہ جنرل محمد پاکپور نے کہا ہے کہ ایران پر کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں فوری ردعمل دیں گے، جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق پاسدران انقلاب کے سربراہ میجر جنرل پاکپور نے واضح طور پر پیغام دیا ہے کہ ہمارے دشمن غلط فہمی میں نہ رہیں، ہمارا ہاتھ ہتھیاروں کے ٹریگر پر ہے، کسی بھی حملے کی صورت میں جواب دینگے۔ جنرل پاکپور نے مزید کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ہماری طاقت کے حوالے سے غلط اندازے لگانے کا نتیجہ ان کے لیے اچھا نہیں آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دشمنوں کو 12 روزہ جنگ کے بعد کم ازکم اتنا اندازہ تو ہوگیا ہوگا کہ ہم پر حملے کی صورت میں انہیں درناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا، جس کا انہی کو بعد میں پچھتاوا ہوگا۔ انہوں کہا کہ ماضی کے مقابلے میں ایرانی افواج پہلے سے زیادہ بہتر طور پر تیار ہیں اور صہیونی ریاست یا امریکا نے کوئی سازش کی تو اس کا جواب دیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جنگی بحری جہاز اور حملے کی صورت میں ایران کی جانب بڑی فورس نے ایران کہا کہ
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔