اسلام آباد‘سپر ٹیکس کیس کی سماعت 26 جنوری تک ملتوی
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260124-08-2
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت 26 جنوری تک ملتوی کردی۔چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں3 رکنی بینچ نے کیس پر سماعت کی۔ دوران سماعت ایف بی آر کے وکیل حافظ احسان کھوکھر نے کہا کہ ٹیکس آرڈینس کے سیکشن 4 بی کو 2022ء میں ہی عدالت درست قرار دے چکی ہے۔ٹیکس آرڈینس کا سیکشن 4 سی 2022ء کے بعد سے لاگو ہے۔ وکیل ایف بی آر نے کہا کہ عدالت عظمیٰ نے سپر ٹیکس پر لاہور ہائیکورٹ کے حکم امتناع کو ختم کردیا تھا۔عدالت عظمیٰ نے ٹیکس دہندگان کو حکم دیا تھا 50 فیصد ٹیکس ایف بی آر کو جمع کرائیں۔جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا سندھ اور لاہور ہائیکورٹ کے علاوہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں کوئی نیا درخواست گزار بھی سامنے آیا تھا۔وکیل ایف بی آر نے جواب دیا زیادہ تر پرانے درخواست گزار ہی تھے، ان کے ساتھ کچھ نئے ٹیکس دہندگان بھی شامل ہوئے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایف بی ا ر
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔