data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260124-08-9
کراچی(اسٹاف رپورٹر) گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے رہنماؤں ڈاکٹر صفدر عباسی، سید زین شاہ اور سردار رحیم نے گل پلازہ میں پیش آنے والے المناک سانحے کو ریاستی قتل، مجرمانہ غفلت اور کرپٹ حکمرانی کا واضح ثبوت قرار دیا ہے۔جی ڈی اے رہنماؤں نے کہا کہ درجنوں معصوم تاجروں، شہریوں اور مزدوروں کا زندہ جل جانا اس امر کا ثبوت ہے کہ سندھ حکومت، بلدیاتی ادارے اور متعلقہ محکمے عوام کی جانوں کے محافظ بننے کے بجائے بلڈر مافیا اور کرپٹ افسران کے سہولت کار بن چکے ہیں۔ ان کے مطابق فائر سیفٹی کے بغیر عمارت کو برسوں تک چلنے کی اجازت دینا، حفاظتی معائنوں کا نہ ہونا اور ایمرجنسی نظام کی عدم موجودگی کسی ایک محکمے کی نہیں بلکہ پورے کرپٹ حکومتی ڈھانچے کی اجتماعی مجرمانہ غفلت ہے، جس کی قیمت انسانی جانوں کی صورت میں ادا کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے نام نہاد میئر سے لے کر سندھ حکومت کے اعلیٰ ترین ایوانوں تک تمام ذمہ داران اس سانحے میں براہِ راست شریک جرم ہیں۔ جی ڈی اے رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس خون آلود المیہ کے بعد ان ذمہ داران کو نہ اخلاقی، نہ قانونی اور نہ ہی انسانی طور پر اپنے عہدوں پر برقرار رہنے کا کوئی حق حاصل ہے۔ ان کی دانستہ بے عملی، سنگین نااہلی اور کرپشن پر مبنی نظام نے کراچی کو مقتل بنا دیا ہے، جہاں تاجروں کو جان بوجھ کر خطرناک عمارتوں میں دھکیلا گیا اور شہریوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا۔ بیان میں واضح طور پر کہا گیا کہ یہ قتل عام کسی ایک ادارے یا فرد کی ناکامی نہیں بلکہ پوری حکومتی مشینری کی شکست اور وزیر اعلیٰ سندھ کی براہ راست ذمہ داری کا ثبوت ہے۔ جی ڈی اے رہنماؤں نے وزیر اعلیٰ سندھ کو اس سانحے کا اصل ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کسی رسمی تعزیت، نمائشی معطلی یا کھوکھلی انکوائری کو ہرگز قبول نہیں کرے گی۔ جی ڈی اے نے دو ٹوک مطالبہ کیا کہ میئر کراچی، وزیر بلدیات سندھ، وزیر محنت و سماجی تحفظ سندھ اور وزیراعلیٰ سندھ فوری طور پر استعفا دیں کیونکہ ان کی موجودگی میں نہ کراچی کے شہری اور نہ ہی کراچی شہر محفوظ رہ سکتا ہے۔ جی ڈی اے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ غیر قانونی منظوری دینے والے افسران، فائر سیفٹی اور کے ایم سی کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قتل کے مقدمات درج کیے جائیں اور تحقیقات کسی سرکاری کمیٹی کے بجائے ہائیکورٹ کے حاضر سروس جج کے ذریعے کرائی جائیں تاکہ اس قاتل نظام کے تمام کردار بے نقاب ہو سکیں۔ آخر میں انہوں نے سندھ حکومت کو خبردار کیا کہ اگر اس سانحے کو بھی ماضی کی طرح فائلوں، کمیٹیوں اور وعدوں کی نذر کرنے کی کوشش کی گئی تو گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس خاموش نہیں رہے گی بلکہ عوامی طاقت کے ذریعے اس خون آلود نظام کو چیلنج کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے عوام مزید لاشیں اٹھانے کیلیے تیار نہیں اور اب یہ شہر قاتل حکمرانوں، نااہل میئر اور کرپٹ وزراء کو برداشت نہیں کرے گا۔

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جی ڈی اے رہنماو ں نے کیا کہ

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن