گل پلازہ سانحہ ریاستی قتل، کرپٹ حکمرانی کا ثبوت ہے، جی ڈی اے
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260124-08-9
کراچی(اسٹاف رپورٹر) گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے رہنماؤں ڈاکٹر صفدر عباسی، سید زین شاہ اور سردار رحیم نے گل پلازہ میں پیش آنے والے المناک سانحے کو ریاستی قتل، مجرمانہ غفلت اور کرپٹ حکمرانی کا واضح ثبوت قرار دیا ہے۔جی ڈی اے رہنماؤں نے کہا کہ درجنوں معصوم تاجروں، شہریوں اور مزدوروں کا زندہ جل جانا اس امر کا ثبوت ہے کہ سندھ حکومت، بلدیاتی ادارے اور متعلقہ محکمے عوام کی جانوں کے محافظ بننے کے بجائے بلڈر مافیا اور کرپٹ افسران کے سہولت کار بن چکے ہیں۔ ان کے مطابق فائر سیفٹی کے بغیر عمارت کو برسوں تک چلنے کی اجازت دینا، حفاظتی معائنوں کا نہ ہونا اور ایمرجنسی نظام کی عدم موجودگی کسی ایک محکمے کی نہیں بلکہ پورے کرپٹ حکومتی ڈھانچے کی اجتماعی مجرمانہ غفلت ہے، جس کی قیمت انسانی جانوں کی صورت میں ادا کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے نام نہاد میئر سے لے کر سندھ حکومت کے اعلیٰ ترین ایوانوں تک تمام ذمہ داران اس سانحے میں براہِ راست شریک جرم ہیں۔ جی ڈی اے رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس خون آلود المیہ کے بعد ان ذمہ داران کو نہ اخلاقی، نہ قانونی اور نہ ہی انسانی طور پر اپنے عہدوں پر برقرار رہنے کا کوئی حق حاصل ہے۔ ان کی دانستہ بے عملی، سنگین نااہلی اور کرپشن پر مبنی نظام نے کراچی کو مقتل بنا دیا ہے، جہاں تاجروں کو جان بوجھ کر خطرناک عمارتوں میں دھکیلا گیا اور شہریوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا۔ بیان میں واضح طور پر کہا گیا کہ یہ قتل عام کسی ایک ادارے یا فرد کی ناکامی نہیں بلکہ پوری حکومتی مشینری کی شکست اور وزیر اعلیٰ سندھ کی براہ راست ذمہ داری کا ثبوت ہے۔ جی ڈی اے رہنماؤں نے وزیر اعلیٰ سندھ کو اس سانحے کا اصل ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کسی رسمی تعزیت، نمائشی معطلی یا کھوکھلی انکوائری کو ہرگز قبول نہیں کرے گی۔ جی ڈی اے نے دو ٹوک مطالبہ کیا کہ میئر کراچی، وزیر بلدیات سندھ، وزیر محنت و سماجی تحفظ سندھ اور وزیراعلیٰ سندھ فوری طور پر استعفا دیں کیونکہ ان کی موجودگی میں نہ کراچی کے شہری اور نہ ہی کراچی شہر محفوظ رہ سکتا ہے۔ جی ڈی اے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ غیر قانونی منظوری دینے والے افسران، فائر سیفٹی اور کے ایم سی کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قتل کے مقدمات درج کیے جائیں اور تحقیقات کسی سرکاری کمیٹی کے بجائے ہائیکورٹ کے حاضر سروس جج کے ذریعے کرائی جائیں تاکہ اس قاتل نظام کے تمام کردار بے نقاب ہو سکیں۔ آخر میں انہوں نے سندھ حکومت کو خبردار کیا کہ اگر اس سانحے کو بھی ماضی کی طرح فائلوں، کمیٹیوں اور وعدوں کی نذر کرنے کی کوشش کی گئی تو گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس خاموش نہیں رہے گی بلکہ عوامی طاقت کے ذریعے اس خون آلود نظام کو چیلنج کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے عوام مزید لاشیں اٹھانے کیلیے تیار نہیں اور اب یہ شہر قاتل حکمرانوں، نااہل میئر اور کرپٹ وزراء کو برداشت نہیں کرے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جی ڈی اے رہنماو ں نے کیا کہ
پڑھیں:
فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید(فائل فوٹو)۔ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کے بیان پر ردِعمل دے دیا۔
ایک بیان میں سعدیہ جاوید کا کہنا ہے کہ فلاحی ریاست کا درس دینے والے آج غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں ہیں؟
ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمٰن کا بیان ان کی سطحی اور غریب دشمن سوچ کا عکاس ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو فراڈ قرار دینا لاکھوں مستحق خاندانوں کی توہین کے مترادف ہے۔