غزہ پیس بورڈ میں پاکستان کی شمولیت انتہائی تشویشناک ہے،ملی یک جہتی کونسل
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260124-08-24
حیدرآباد (نمائندہ جسارت) جمعیت علماء پاکستان و ملی یکجہتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیرمحمد زبیر نے مفتی محمد تقی عثمانی،مفتی منیب الرحمن،مولانا محمد حنیف جالندھری اور مولانا فضل الرحمن کے نام مکتوب روانہ کئے ہیں جس میں 22دسمبر2025ء کوان کی میزبانی میں مجلس اتحاد امت کے تحت تمام مکاتب فکر کے علماء اور دینی جماعتوں کے نمائندہ اجتماع میں جودس نکاتی اعلامیہ منظور کیاگیا تھا اس کی کسی بھی شق پر حکمرانوں نے ہنوز عمل نہیں کیابالخصوص اس اعلامیہ کی آخری دسویں شق میں حکومت سے ایک اہم مطالبہ کیا گیا تھا کہ ’’وہ حماس کو غیر مسلح کرنے کیلیے امن افواج بھیجنے سے گریز کرے‘‘ لیکن ٹرمپ کی طرف سے ’’غزہ بورڈ آف پیس‘‘میں شمولیت کی دعوت حکومت پاکستان نے قبول کر کے بورڈ کے ہر فیصلہ پر عملدرآمدکا اپنے آپ پابند کرلیا ہے جس میں سرفہرست حماس کو غیر مسلح کرنے کیلیے افواج بھیجنے کا معاملہ بھی ہے جس سے حکومت پاکستان کا اب انکار ممکن نہیں رہا اور اسکے متعلق بورڈ کے سرپرست ٹرمپ کا کہناہے کہ حماس نے اگر غیر مسلح ہونے سے انکا ر کیا تو اس کو تباہ کردیا جائے گا۔جبکہ مجلس اتحاد امت کے اعلامیہ کے مطابق آزادی فلسطین کی کسی مقدس جدوجہد کے خلاف کھڑا کرنے کا تصور بھی قوم کیلیے ناممکن ہے بہر حال یہ صورتحال قوم کیلیے انتہائی تشویش کا باعث ہے۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح اعلامیہ کے اندر ملک میں مسلح کاروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ’’ان سازشوں کو ختم کرنے کیلیے جائز مطالبات پر عمل کرے اور مسئلہ کو حکمت و تدبر کے ذریعہ حل کیا جائے اور پاکستان اور افغانستان دونوں ملکوں کی اعلیٰ قیادت مل بیٹھے اور مزید کسی نقصان کے بغیرمسائل کا مثبت اور قابل عمل حل نکالے‘‘ لیکن افسوس اس پر بھی ابھی تک حکومت کی طرف سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی جبکہ ملک کی سرحدوں پر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں جس میں ان اہم اعلامیہ کی تجاویز پر عمل درآمد سے ہی ملک کی سا لمیت کا تحفظ کیا جاسکتا ہے۔آخر میں انہوں نیکہا کہ اگر حکمراں اعلامیہ کے تجاویز پر عمل کرنے کیلیے تیار نہیں ہیں بلکہ اس کے خلاف عملی اقدامات کرنے کیلیے کمربستہ ہو گئے ہیں توپوری قوم کی نظریں مجلس اتحاد امت پر لگی ہوئی ہیں کہ وہ آئندہ کیلیے قوم کو کیا لائحہ عمل دیتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کرنے کیلیے
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔