عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرانے کیلیے حکومتی اقدامات کی تفصیلات سامنے آ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
اسلام آباد:
عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرانے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کی تفصیلات سامنے آگئیں۔
ہائی کورٹ میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق حکومت نے مختلف ادوار میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرانے کے لیے ایکس کو لکھا ، تاہم یہ درخواستیں مؤثر ثابت نہ ہو سکیں۔
پی ٹی اے رپورٹ کے مطابق 21 اگست 2022 کو پہلی مرتبہ پی ٹی اے نے بانی پی ٹی آئی کا اکاؤنٹ بند کرنے کے لیے ایکس کو خط لکھا۔ اس کے بعد 18 اپریل 2024 کو توشہ خانہ، سائفر اور عدت کیسز میں سزاؤں کا حوالہ دیتے ہوئے دوبارہ بانی پی ٹی آئی کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کے لیے ایکس کو درخواست ارسال کی گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 27 نومبر 2025 کو بانی پی ٹی آئی کی 47 ٹویٹس بلاک کرنے کے لیے ایکس کو لکھا گیا، تاہم ساڑھے 3 سال کے دوران 3 مرتبہ پی ٹی اے کی جانب سے لکھنے کے باوجود ایکس نے مجموعی طور پر درخواستیں مسترد کر دیں۔ رپورٹ کے مطابق 27 نومبر 2025 کو 47 ٹویٹس بلاک کرنے کی درخواست میں سے ایکس نے صرف ایک ٹویٹ بلاک کی۔
پی ٹی اے رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پی ٹی اے نے سوشل میڈیا کمپنیز کو پاکستان میں اتھارٹی کے ساتھ رجسٹر کرنے کا کہا، تاہم سوشل میڈیا کمپنیز نہ تو رجسٹرڈ ہوئیں اور نہ ہی پاکستان میں کوئی نمائندھ مقرر کیا۔ رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا کمپنیز اپنے اپنے ممالک میں رجسٹرڈ ہیں اور خود کو دوسرے ممالک کے قوانین کی پابند نہیں سمجھتیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیز دوسرے ممالک سے موصول ہونے والی شکایات کو بھی اپنے قوانین کے مطابق دیکھتی ہیں۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست سے متعلق پی ٹی اے کی یہ رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی گئی ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند سوشل میڈیا کمپنیز رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے لیے ایکس کو پی ٹی اے
پڑھیں:
موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔