’تجدید عہد وفا‘ کانفرنس سے ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی، علامہ ناظر تقوی، خانم فاطمہ سبزواری، مولانا ڈاکٹر عقیل موسی، پروفیسر منور عباس، مولانا حیات عباس نجفی، مولانا محمد حسین و دیگر نے خطاب کیا، معروف شاعرہ خانم معصومہ شیرازی نے امام خامنہ ای سے متعلق خصوصی انقلابی کلام پیش کیا۔ رپورٹ: سید ظفر جعفری

پروفیسرز اینڈ انٹلیکچولز فورم پاکستان اور مکتب امام زمانہ (عج) کے زیر اہتمام عظیم الشان ’سفر امام حسینؑ و تجدید عہد وفا‘ کانفرنس کا انعقاد بارگاہ شہدائے کربلا انچولی سوسائٹی کراچی میں کیا گیا۔ کانفرنس سے جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی رہنما ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی، شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی ایڈیشنل سیکریٹری علامہ سید ناظر عباس تقوی، مذہبی اسکالر خانم فاطمہ سبزواری، مولانا ڈاکٹر عقیل موسی، سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچرر ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر پروفیسر منور عباس، مجلس وحدت مسلمین سندھ کے رہنما مولانا حیات عباس نجفی، مولانا محمد حسین و دیگر نے خطاب کیا۔ کانفرنس میں معروف شاعرہ خانم معصومہ شیرازی نے رہبر مسلمین جہان آیت اللہ سید علی خامنہ ای سے متعلق خصوصی انقلابی کلام پیش کیا۔

کانفرنس میں معروف منقبت و نوحہ خواں شاہد علی بلتستانی، احمد رضا ناصری، محمد علی موشی و دیگر نے ترانہ شہادت پیش کئے۔ اس موقع پر خانہ فرہنگ جمہوری اسلامی ایران کراچی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سعید طالبی نیا نے خصوصی شرکت اور کانفرنس کے انعقاد کو سراہا۔ کانفرنس میں نظامت کے فرائض قنبر رضوی نے انجام دیئے۔ کانفرنس میں مرد و خواتین، طلبہ و طالبات اور بچوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ شرکاء نے امام سید علی خامنہ ای سے تجدید عہد کرتے ہوئے دستخطی مہم میں بھی حصہ لیا۔ اس موقع پر بچوں کیلئے مصوری، پینٹنگ، پزلز و دیگر دلچسپ سرگرمیوں کا بھی اہتمام کیا گیا، جس میں بچوں نے نہایت ہی دلچسپی کے ساتھ حصہ لیا۔

ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حسینیؑ کارروان آج بھی باطل کے سامنے ڈٹا ہوا ہے، کل سیدنا امام حسین علیہ السلام رہنمائی فرما رہے تھے، آج علیؑ کا بیٹا امام خامنہ ای موجود ہے، جو عالمی طاغوت و باطل کو چیلنج کر رہا ہے، جب ٹرمپ کی آواز پر دنیا خاموش ہو جاتی ہے تو امام خامنہ ای کی صدا بلند ہوتی ہے تو پوری دنیا میں اہل حریت کو جذبہ دیکر کھڑا کر دیتی ہے اور باطل و طاغوت کی بازی پلٹ جاتی ہے، ان شاء اللہ ایران کا انقلاب اسلامی پوری دنیا میں حق کی فتح کے اوپر منتج ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ فرانس، جرمنی و دیگر مغربی ممالک جو اسرائیل کے ہاتھوں غزہ میں بدترین نسل کشی پر تو خاموش رہتے ہیں لیکن ایران میں مساجد، مزارات کو آگ لگانے، عوامی و سرکاری املاک کو جلانے، شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو بموں اور فائرنگ کرکے شہید کرنے والے فسادیوں کے تحفظ کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رہبر معظم امام خامنہ ای نے ایک اشارہ کیا تو ناصرف ایران بلکہ پاکستان سے بھی کروڑوں نوجوان جانیں قربان کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان شاء اللہ انقلاب اسلامی ایران کی حرارت و گرمی اور امام خامنہ ای کی فکر ساری دنیا میں طاغوت و باطل کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہے، ان شاء اللہ فتح غلامانِ مصطفیٰؐ کا نصیب اور شکست امریکا، اسرائیل و شیطان کے یاروں کا مقدر ہوگی۔ 

علامہ سید ناظر عباس تقوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کربلا میں نواسہ رسولؐ حضرت امام حسینؑ کی مقاومت کی تحریک جاری و ساری ہے، جس نے ہمیں جینے اور مرنے کا مقاومتی سلیقہ سکھایا، مقاومت کی تحریک تا ظہور امام مہدی (عج) جاری رہے گی، آج بھی یہ حسینیؑ مہدویؑ مقاومتی تحریک رہبر معظم سید علی خامنہ ای کی رہبریت میں جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہادتوں سے اگر مقاومتی تحریک ختم ہون ہوتی تو کربلا میں حسینیؑ مقاومتی تحریک ختم ہو چکی ہوتی، لیکن کربلائی مقاومت ناصرف زندہ ہے بلکہ دشمن کو شکست دیتے ہوئے ظہور امام زمان (عج) کی جانب تیزی سے گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی میڈیا کو دشمن کے پروپیگنڈے سے متاثر ہونے کے بجائے مقاومتی تحریک کی حقیقت کو سمجھنا چاہیئے، دشمن کے مقابل جاری مقاومتی تحریک کو مقاومت کربلا نے راہ دکھائی ہے۔ 

علامہ ناظر تقوی نے کہا کہ میڈیا کو رہبر مسلمین جہان امام خامنہ ای کے خلاف پروپیگنڈے کا حصہ بننے کے بجائے فکر خامنہ ای کا حامل بنتے ہوئے دشمن کے مقابل اپنی حقیقی ذمہ داری انجام دینی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ سید علی خامنہ ای حیدرؑ کرار، غیر فرار کا بیٹا ہے، ہمیشہ میدان میں ڈٹا تھا، ہے اور رہے گا، دنیا نے دیکھا کہ ایرانی دفاعی حملے کے موقع پر ہر خاص و عام صہیونی اسرائیلی بنکر میں چھپا بیٹھا تھا، جبکہ اسوقت علیؑ کا بیٹا سید علی خامنہ ای برسر میدان لاکھوں افراد کیلئے نماز جمعہ کی جماعت کرا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ برادر اسلامی پڑوسی ملک اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اسلام آباد سمیت دیگر شہروں میں زبان درازی کرنے والے فرقہ پرست تکفیری عناصر کو لگام ڈالے۔ 

خانم فاطمہ سبزواری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں حق، عدالت و راہ راست کیلئے ظہور امام زمانہ (عج) کیلئے جدوجہد کرنی ہوگی، حق کے پہچان کے بعد ہمیں حق کے راستے پر چلنا بھی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت علیؑ و زہراءؑ کا بیٹا سید علی خامنہ ای دشمن کی نگاہ میں کھٹک رہا ہے، اگر ہم امام حسینؑ سے عہد پر باقی ہیں تو آج سید علی خامنہ ای کی رہبریت کی چھتری تلے جمع ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور پاکستان دونوں ہی دشمن کو کھٹکتے ہیں، دشمن کی نظر میں ایران کے بعد پاکستان کی باری ہے، عالم اسلام کو دونوں ممالک کا دفاع کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت اور میڈیا کو دشمن کے مقابل حسینی کردار ادا کرنا چاہیئے۔

مولانا ڈاکٹر عقیل موسیٰ نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم کی نگاہ میں جو کارروان فقط اور فقط خدا کیلئے میدان عمل میں نکلتا ہے، آج کے زمانے میں اس کارروان کی رہنمائی رہبر معظم سید علی خامنہ ای کر رہے ہیں، آج ولی امر مسلمین امام خامنہ ای کے کارروان کا ساتھ نہ دینے والا پیچھے رہ جائیگا، جو سراسر خسارے کے سوا کچھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج جو شہادتوں کی داستان رقم ہو رہی ہے، آج جو دین دوبارہ زندہ ہو رہا ہے، یہ نواسہ رسولؐ امام حسینؑ کی کربلائی مقاومتی تحریک کا نتیجہ ہے۔ پروفیسر منور عباس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امام حسینؑ سے محبت کا تقاضا ہے کہ ظالم و باطل کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑا رہا جائے، جو مقاومتی سفر کربلا سے شروع ہوا وہ آج بھی جاری و ساری ہے، ان شاء اللہ یہ سفر ظہور امام زمانہ (عج) سے متصل ہوگا۔

پروفیسر منور عباس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب پاکستانی رہبر معظم سید علی خامنہ ای سے تجدید عہد کرتے ہوئے امریکا، اسرائیل، ضدِ انقلاب فسادی اور منافقین پر واضح کر دیں کہ ہم امام زمانہ امام مہدی (عج) کے نائب سید علی خامنہ ای سے عشق کرتے ہیں، اگر یہ تمام دشمن نائب امام سید علی خامنہ ای کو للکارتا ہے، تو وہ یہ نہ سمجھے کہ وہ فقط ایرانی قوم کو للکار رہا ہے، بلکہ اسے جان لینا چاہیئے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمان رہبر معظم کے ایک اشارے پر جان دینے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقام معظم رہبری سے عشق کا تقاضا ہے کہ انتظار کے بجائے میدان عمل میں وارد ہو کر رہبر معظم سید علی خامنہ ای سے تجدید عہد کرتے ہوئے انکے خط پر عمل پیرا ہوں۔

مولانا حیات عباس نجفی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس سید علی خامنہ ای کا بیٹا سید حسن نصراللہ میدان کو نہیں چھوڑ سکتا، وہ سید علی خامنہ ای بھی ہمیشہ میدان میں تھے، ہیں اور رہینگے، ہم مولا حسینؑ کے بیٹے سید علی خامنہ ای سے عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ اپنی جانیں، اولاد، مال کو علی خامنہ ای پر قربان کرتے رہینگے۔ کانفرنس کے آخر میں کثیر تعداد میں موجود کمسن معصوم بچے بچیوں نے خانہ فرہنگ جمہوری اسلامی ایران کراچی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سعید طالبی نیا کے ہمراہ ولی امر مسلمین جہان حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای سے تجدید عہد وفا کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سید علی خامنہ ای سے تجدید عہد رہبر معظم سید علی خامنہ ای نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر منور عباس انہوں نے کہا کہ ا مقاومتی تحریک تجدید عہد وفا امام خامنہ ای کانفرنس میں خامنہ ای کی ان شاء اللہ کہ پاکستان کانفرنس سے ظہور امام کا بیٹا دشمن کے رہا ہے

پڑھیں:

فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے

بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے ایک آنے والی فلم ’کالا ہرن‘ کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے فلم سازوں کو نوٹس جاری کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: میں اکیلا نہیں ہوں، سلمان خان کی انسٹا پوسٹ نے ماں سمیت لاکھوں مداحوں کو بے چین کردیا

فلم کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کی کہانی سنہ 1998 کے مشہور کالا ہرن شکار کیس سے متاثر ہے جس میں سلمان خان کا نام سامنے آیا تھا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سلمان خان کی قانونی ٹیم نے کاسٹنگ ڈائریکٹر اکشے پانڈے کو نوٹس بھجوایا ہے جس میں فلم کو اداکار کی شخصیت اور ساکھ کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کی تشہیری مہم اور ریلیز فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کالا ہرن کیس اب بھی راجستھان ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے جبکہ فلم مبینہ طور پر سلمان خان کی شخصیت اور شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔

سلمان خان کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل نے نہ تو اپنی شخصیت، نام یا اس واقعے سے متعلق کسی مواد کے استعمال کی اجازت دی ہے اور نہ ہی اس پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

مزید پڑھیے: سلمان خان کی نقل کیوں کی؟ رجب بٹ نے اپنی اس حرکت کی وجہ بتادی

دوسری جانب فلم کے پروڈیوسر امیت جانی نے قانونی نوٹس کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے سلمان خان کے مؤقف کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ قانونی نوٹس کا مقصد صرف فلم سے وابستہ افراد کو دباؤ میں لانا ہے۔

امیت جانی نے فیس بک پر لکھا کہ سلمان خان کالا ہرن سے وابستہ لوگوں کو قانونی نوٹس کے ذریعے دھمکا رہے ہیں لیکن یہ صرف خوف پیدا کرنے کی کوشش ہے تاکہ لوگ دباؤ میں آ جائیں۔

فلم کے حوالے سے بحث اس وقت مزید تیز ہوگئی جب اس کا پہلا پوسٹر جاری کیا گیا۔ پوسٹر میں ایک شخص کو بندوق تھامے دکھایا گیا ہے جس نے فیروزی رنگ کا وہی بریسلٹ پہن رکھا ہے جو سلمان خان کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: سلمان خان کے 42 سال پرانے قریبی دوست کا انتقال، اداکار کا سوشل میڈیا پر جذباتی پیغام

فلم سازوں کے مطابق ’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگسی‘ حقیقی قانونی تنازعات اور ایکشن پر مبنی کہانی پیش کرے گی جبکہ اس کا ٹیزر 20 جون کو جاری کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

کالا ہرن کیس کیا تھا؟

سنہ1998 میں فلم ’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘ کی شوٹنگ کے دوران سلمان خان پر راجستھان کے ضلع جودھ پور کے قریب کنکانی گاؤں میں 2 کالے ہرن شکار کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

اس مقدمے میں سلمان خان کے ساتھ اداکار سیف علی خان، سونالی بیندرے، نیلم اور تبو کے نام بھی شامل تھے تاہم بعد میں دیگر تمام فنکاروں کو بری کر دیا گیا تھا۔

اپریل 2018 میں جودھ پور کی ایک عدالت نے سلمان خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے 5 سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم بعد ازاں انہیں ضمانت مل گئی۔

یہ بھی پڑھیے: رنویر سنگھ کے بعدسلمان خان کے بہنوئی کو بھی دھمکی آمیز پیغام موصول

سنہ 2022 میں راجستھان ہائیکورٹ نے اس کیس سے متعلق تمام مقدمات اپنے دائرہ اختیار میں لے لیے تھے جہاں اب بھی کارروائی جاری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بالی ووڈ سلمان خان سلمان خان اور کالا ہرن سلمان خان اور مقدمہ فلم کالا ہرن کالا ہرن

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے