data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(کامرس رپورٹر)صدر،پاکستان بزنس گروپ(سندھ ریجن)،کنوینرایف پی سی سی آئی انرجی اسٹینڈنگ کمیٹی اور سینئروائس چیئرمین پی پی ڈی اے ملک خدا بخش نے سانحہ گل پلازہ کو قومی سانحہ قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کے گل پلازہ کے ریسکیو آپریشن کو تعطل میں ڈالے بغیر جلد سے جلد مکمل کیا جائے اور گل پلازہ کے متاثرہ دکانداروں کو فی الفور ریلیف فراہم کیا جائے۔ملک خدا بخش نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ سانحہ گل پلازہ کی غیر جانبدارانہ اور شفاف انکوائری کیلئے صرف کوشش ہی نہیں بلکہ خوف خدا رکھتے ہوئے دیانتداری کے ساتھ یہ انکوائری کی جائے اور حقائق عوام تک پہنچائے جائیں اس کے ساتھ ہی سانحہ گل پلازہ قومی سانحہ ،ذمہ داروں کے خلاف سخت ایکشن لیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ کراچی کی تاریخ کے بدترین سانحات میں سے ایک ہے، افسوسناک امر یہ ہے کہ واقعے کو کئی روز گزر جانے کے باوجود اب تک تمام لاشیں نہیں نکالی جا سکیں۔انہوں نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ نے جہاں درجنوں خاندانوں کو اجاڑ دیا، وہی شہر قائد کے فائر فائٹنگ سسٹم کے کھوکھلے پن کو بھی بے نقاب کر دیا ہے،سابق اور موجودہ چیف فائر آفیسرز نے شہر میں فائر سیفٹی کے حوالے سے جو حقائق بیان کیے ہیں، وہ نہ صرف تشویشناک ہیں بلکہ انتظامیہ کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ملک خدا بخش نے کہا کہ اس وقت کراچی شہر کی آبادی تقریباً 4 کروڑ تک جا پہنچی ہے اور عالمی معیار کے مطابق کراچی کو اس وقت کم از کم 200 سے250فائر اسٹیشنز کی ضرورت ہے، لیکن حقیقت میں صرف 12 مرکزی اسٹیشنز فعال ہیں اور سڑکوں اور پلوں کے نیچے قائم عارضی مراکز سمیت یہ تعداد 28 ہے، شہرقائد کو اس وقت 15 سے 20 ہزار فائرفائٹرز کی ضرورت ہے، جبکہ صرف 930 فائر فائٹرز دستیاب ہیں۔ ایک فائر فائٹر اوسطاً ایک ہزار افراد کی حفاظت کی ذمے داری نبھا رہا ہے اور یہ اعداد وشمار لمحہ فکریہ ہیں۔انہوں نے سانحہ گل پلازہ میں شہید ہونے والے افراد کی مغفرت کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ ہم تمام لواحقین کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔

کامرس رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سانحہ گل پلازہ ملک خدا بخش کہا کہ

پڑھیں:

کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک

کراچی کے علاقے کیماڑی سے 7 سالہ بچی کو اغوا اور زیادتی کے بعد قتل کرنے والا ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا۔

ایس ایس پی کیماڑی سنگھار ملک نے بتایا کہ جیکسن پولیس دعا کے اغوا، زیادتی کے بعد قتل کیس کی تفتیش میں مصروف تھی کہ تھانے کی حدود میں آنے والے ایک علاقے میں پولیس مقابلہ ہوا جس میں ملزم ہلاک ہوگیا۔

انہوں نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز اور شواہد کی بنیاد پر مشتبہ شخص کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی، پولیس ملزم کی گرفتاری کیلیے اسٹریٹ مبارک مسجد کے قریب پہنچی تو ملزم نے اہلکاروں پر فائرنگ کردی۔

مزید پڑھیں

کیماڑی میں جھاڑیوں سے کمسن بچی کی لاش برآمد، مشکوک شخص کی ویڈیو سامنے آگئی

2 سالہ بچے آذان کے اغوا میں ملوث 3 ملزمان گرفتار، مرکزی ملزم والد کا دوست نکلا

ایس ایس پی کیماڑی کے مطابق جوابی فائرنگ میں ملزم مارا گیا جبکہ جائے وقوعہ سے شواہد تحویل میں لے کر قانونی و فرانزک کارروائی شروع کردی گئی ہے۔

سنگھار ملک کے مطابق ہلاک شخص کے کوائف اور بچی کے اغواء و قتل کیس سے ممکنہ تعلق کی جانچ جاری ہے جبکہ پولیس سرجن نے معصوم بچی دعا کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کردی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار