سانحہ گل پلازا کی ذمے داری نعمت اللّٰہ خان پر بھی عائد ہوتی ہے، سعدیہ جاوید
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
تصویر، سعدیہ جاوید فیس بک
سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے کہا ہے کہ سانحہ گل پلازا کی ذمے داری جماعت اسلامی کے میئر نعمت اللّٰہ خان پر بھی عائد ہوتی ہے۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان کے بیان پر ردعمل میں سعدیہ جاوید نے کہا کہ تاجر برادری سندھ حکومت کے عملی اقدامات سے مطمئن ہے۔
سانحہ گل پلازا کی زمین کب، کس نے اور کس کو الاٹ کی، حکومت نے ابتدائی رپورٹ تیار کرلی۔
انہوں نے کہا کہ گل پلازا سانحے کی ذمے داری جماعت اسلامی کے میئر نعمت اللہ خان پر بھی عائد ہوتی ہے۔
سندھ حکومت کی ترجمان نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی اپنے دور میں کی گئی کارروائیوں کا ملبہ پاکستان پیپلز پارٹی پر ڈالنا چاہتی ہے۔
اس سے قبل حافظ نعیم الرحمان نے سانحہ گل پلازا پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے استعفے کا ایک بار پھر مطالبہ کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ یکم فروری کو شاہراہ فیصل پر ’جینے دو مارچ‘ کے عنوان سے احتجاج کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی سعدیہ جاوید گل پلازا کی نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔