ماتلی،مرکزی پل پر لائوڈ اسپیکر کا بے دریغ استعمال،شہری پریشان
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماتلی (نمائندہ جسارت )ماتلی شہر کے مرکزی پل پر رات گئے تک لاؤڈ اسپیکر کے بے دریغ استعمال نے اردگرد رہنے والے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے پل پر قائم غیر قانونی ریڑھیوں اور جمع ہونے والے افراد کی جانب سے تیز آواز میں موسیقی اور شور شرابا معمول بن چکا ہے جس کے باعث قریبی گھروں میں رہنے والے شہری شدید ذہنی اذیت کا شکار ہیں،صرف مرکزی پل ہی نہیں بلکہ فلکارا روڈ اور شہر کے مختلف محلوں میں قائم ڈببو اور اسنوکر گیم پوائنٹس پر بھی رات گئے تک تیز آواز میں ریکارڈ شدہ موسیقی چلائی جاتی ہے جس سے طلبہ کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے جبکہ گھروں میں موجود بزرگ اور بیمار افراد شدید پریشانی میں مبتلا ہیں ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ رات کے وقت آرام اور سکون ناممکن ہو چکا ہے۔شہریوں کے مطابق متعدد بار مقامی انتظامیہ اور پولیس کو شکایات درج کروائی گئیں مگر کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کی کھلم کھلا خلاف ورزی جاری ہے مگر انتظامیہ مکمل طور پر بے بس نظر آتی ہے ۔شہری حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر رات کے اوقات میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی کو یقینی بنایا جائے تاکہ شہریوں کو ذہنی سکون اور طلبہ کو تعلیمی ماحول میسر آ سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔