سیالکوٹ (نامہ نگار) وزیر دفاع خواجہ آصف نے سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں بزنس کمیونٹی کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت سیالکوٹ کے صنعتکاروں کے مسائل حل کرنے اور شہر کو جدید سہولیات سے آراستہ کرنے کیلئے  مخلصانہ کوششیں بروئے کار لا رہی ہے۔ اجلاس میں ایم پی اے چوہدری فیصل اکرام، گروپ لیڈر ریاض الدین شیخ اور صدر چیمبر سید احتشام مظہر سمیت دیگر عہدیداران نے شرکت کی۔ خواجہ آصف نے اس موقع پر اعلان کیا کہ شہر میں ٹریفک کے سنگین مسئلے پر قابو پانے کیلئے لاری اڈہ کو شہر سے باہر منتقل کرنے کے فنڈز موصول ہو چکے ہیں۔ ریلوے روڈ پر جدید پارکنگ پلازہ‘ لاہور کی طرز پر اندرون شہر کی سڑکوں کی تعمیر نو اور بجلی کی تاروں کو زیرِ زمین منتقل کرنے کا منصوبہ بھی ہے تاکہ شہر کی خوبصورتی میں اضافہ ہو سکے۔ علامہ اقبال لائبریری کو 10 کروڑ روپے کی لاگت سے ڈیجیٹلائز کر کے ایک جدید لائبریری میں تبدیل کیا جا رہا ہے جس میں ان کے والد خواجہ محمد صفدر مرحوم کی ذاتی کتب اور خدمات کا بڑا حصہ شامل ہے۔ انہوں نے شہر کے وسط میں 52 ایکڑ اراضی پر ایک شاندار پارک بنانے کی تجویز بھی پیش کی۔ حکومت پنجاب نے واسا کے نظام کی بہتری کیلئے 16 ارب روپے کی منظوری دی ہے جبکہ علامہ اقبال میموریل ہسپتال میں 700 بستروں کے بلاک پر کام کیا جائے گا۔ سیالکوٹ کھاریاں موٹروے کو 2029 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جس سے پورے خطے میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری