یاہو اور آؤٹ لک کو گوگل کی سپورٹ ختم، صارفین اپنا انتظام کرلیں
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
گوگل کا یاہو اور آؤٹ لک کے لیے سپورٹ ختم کرنے کا اعلان کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: دہائیوں پہلے دنیا کو چیٹنگ کے ذریعے جوڑنے والی کمپنی اے او ایل کا انٹرنیٹ باب بند ہوگیا
گوگل کی ای میل سروس جی میل دنیا بھر میں اربوں صارفین استعمال کرتے ہیں اور یہ ذاتی و پیشہ ورانہ رابطے کا ایک مؤثر ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران جی میل میں اسپیم پروٹیکشن، بہتر سرچ اور دیگر کئی جدید سہولیات متعارف کرائی گئی ہیں۔
گوگل نے سنہ 2016 میں جی میلیفائی کے نام سے ایک فیچر متعارف کرایا تھا جس کا مقصد یاہو، آؤٹ لک، ہاٹ میل اور اے او ایل جیسے دیگر ای میل سروسز استعمال کرنے والے صارفین کو بغیر ای میل ایڈریس تبدیل کیے جی میل کی نمایاں سہولیات فراہم کرنا تھا۔
تاہم اب گوگل نے اعلان کیا ہے کہ جی میلیفائی فیچر کو جنوری 2026 تک مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔ اس حوالے سے گوگل نے صارفین کو باقاعدہ نوٹیفکیشنز بھیجنا بھی شروع کر دیے ہیں۔
جی میلیفائی کیا سہولیات فراہم کرتا تھا؟جی میلیفائی کے ذریعے صارفین اپنی تمام ای میلز جی میل ایپ کے اندر ہی منظم کر سکتے تھے جہاں انہیں بہتر اسپیم فلٹرنگ، ان باکس کیٹیگریز (جیسے پروموشنز اور سوشل) اور موبائل پر مؤثر نوٹیفکیشنز جیسی سہولیات حاصل تھیں۔
دیگر اکاؤنٹس سے ای میل حاصل کرنے کی سہولت بھی ختمگوگل نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ ’چیک میل فرام ادر اکاؤنٹس‘ فیچر کی سپورٹ بھی ختم کر رہا ہے جو پوسٹ آفس پروٹوکول کے ذریعے دیگر ای میل سروسز سے پیغامات حاصل کرتا تھا۔ اس تبدیلی کے بعد جی میل دیگر فراہم کنندگان سے براہ راست نئی ای میلز حاصل نہیں کرے گا۔
مزید پڑھیے: گوگل پکسل فون کے ایک فیچر سے کالز لیک ہونے کا خدشہ
البتہ جو ای میلز پہلے سے درآمد کی جا چکی ہیں وہ صارفین کو دستیاب رہیں گی تاہم پوسٹ آفس پروٹوکول کے ذریعے مزید نئی ای میلز موصول نہیں ہوں گی۔
متبادل کیا ہوگا؟گوگل کے مطابق اینڈرائیڈ اور آئی او ایس پر جی میل ایپ کے ذریعے صارفین اب بھی تھرڈ پارٹی ای میل اکاؤنٹس کو آئی ایم اے پی کے ذریعے استعمال کر سکیں گے تاہم اس صورت میں جی میل کی مخصوص سہولیات جیسے ان باکس کیٹیگریز اور مضبوط اسپیم کنٹرول دستیاب نہیں ہوں گے۔
ویب صارفین کے لیے گوگل نے آٹو فارورڈنگ کو متبادل حل کے طور پر تجویز کیا ہے۔ اگر متعلقہ ای میل سروس یہ سہولت فراہم کرتی ہو تو نئی ای میلز براہ راست جی میل کے مرکزی ان باکس میں موصول ہو سکیں گی۔
مزید پڑھیں: گوگل کی اے آئی نے جانیں خطرے میں ڈال دیں، غلط طبّی معلومات پر کارروائی
گوگل کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں صارفین کے لیے ای میل سروس کو مزید محفوظ اور جدید بنانے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں تاہم جی میلیفائی استعمال کرنے والے صارفین کو اب متبادل انتظامات کرنے ہوں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آؤٹ لک جی میلیفائی فیچر ختم گوگل گوگل کی یاہو اور آؤٹ لک کو سپورٹ بند یاہو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ؤٹ لک گوگل یاہو استعمال کر صارفین کو کے ذریعے گوگل کی گوگل نے ا ؤٹ لک کے لیے جی میل
پڑھیں:
بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔24 جولائی ۔2026 ) پاکستان میں بجلی تقسیم کار کمپنیوںکی جانب سے صرف ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف سامنے آیا ہے قومی اسمبلی کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈیٹرجنرل آف پاکستان کی رپورٹ گیا ہے ‘اجلاس یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی میں130گھوسٹ ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات کی مد میں ایک ارب6کروڑ روپے کا فراڈ کیا گیا جس میں سے صرف13کروڑ روپے کی ریکوری ہوسکی ہے. اجلاس کو بتایا گیاکہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے (ڈسکوز)کی جانب سے جان بوجھ کر اوورریڈنگ کی اور غیرقانونی طورپر سب سے اضافی بلنگ لاہور الیکٹرک کمپنی لیسکو نے کی جو45ارب روپے ہے.(جاری ہے)
آڈیٹرجنرل آفس کے حکام نے سیکرٹری پاورڈویژن کی جانب سے صارفین سے اووربلنگ کی مد میں حاصل کی جانے والی47ارب81کروڑ روپے کی واپسی کے دعوے کو رد کرتے ہوئے کہاکہ ”ڈسکوز“کی جانب سے صرف انہی صارفین کو اووربلنگ کی رقم واپس کی جاتی ہے جو اس کے لیے درخواست دیتے ہیں اور کمپنیوں کی جانب سے اووربلنگ کی واپسی کا عمل پچیدہ‘طویل اور جانبدار ہونے کی وجہ سے صارفین کی بہت کم تعداد اضافی رقم کی واپسی کے لیے ”ڈسکوز“سے رجوع کرتی ہے‘رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا ہے بطور ریگولیٹری اتھارٹی ”نیپرا“اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے اور اتھارٹی نے صارفین کے حقوق کا تحفظ کرنے کی بجائے تقسیم کار کمپنیوں کے مفادات کا تحفظ کیا‘رپورٹ میں ”نیپرا“اور پاورڈویژن کے کردار پر بہت سارے سوالات اٹھائے گئے ہیں.
رپورٹ میں بتایا گیا ہے مجموعی طور پر ”ڈسکوز“نے90کروڑ40لاکھ یونٹ کی اووربلنگ کی گئی‘ اجلاس میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی میں130 گھوسٹ ملازمین کے ناموں پرایک ارب چھ کروڑ نکلوایا گیا کمپنی نے جواب میں بتایا کہ گھوسٹ ملازمین کے معاملے میںملوث تین اکاﺅنٹس افسر اورایک فناس ڈیپارٹمنٹ کے افسر کو برطرف کردیاگیا ہے ‘ان ملازمین کے خلاف مقدمات بھی درج کروائے گئے ہیں کمپنی نے بتایا کہ اب تک 13کروڑ کی جاچکی ہے. پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے تمام ڈسکوزکے ملازین کی تنخواہیں ڈیجٹل طریقے سے ادا کرنے سے ہدایت سیکرٹری پاور ڈویژن نے بتایا کہ پاورڈویژن دو تقسیم کارکمپنیوں کوئٹہ الیکٹرک کمپنی اور ٹرائبل ایریا الیکٹرک کمپنی کے علاوہ باقی تمام ”ڈسکوز“کی مرحلہ وار نجکاری کرنے جارہی ہے . آڈٹ حکام کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) نے اپنی نااہلی، لائن لاسز اور بجلی چوری کو چھپانے کے لیے عوام کی جیبوں پر 47 ارب 81 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ ڈالا‘ بجلی کمپنیوں نے میٹر ریڈنگ میں ہیرا پھیری اور اوور بلنگ کے ذریعے صرف ایک ماہ کے اندر 2 لاکھ 78 ہزار 649 صارفین سے یہ خطیر رقم چھینی آڈٹ رپورٹ کے مطابق ڈسکوز نے دانستہ طور پر غلط اور زائد میٹر ریڈنگ کر کے صارفین کو کروڑوں اضافی یونٹس کے بل بھیجے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمپنیوں نے اپنے ٹیکنیکل نقصانات (لائن لاسز) اور بجلی چوری کا خسارہ پورا کرنے کے لیے عام شہریوں پر اضافی لوڈ ڈال دیا ‘آڈٹ حکام کا کہنا ہے لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) نے 45 ارب روپے کی اوور بلنگ کا اعتراف کیاہے اسی طرح پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی نے بھی میٹرریڈنگ میں ہیراپھیری کا اعتراف کیا ہے . حکام نے پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کو بتایا کہ ایک سال کے دوران بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی ناقص کارکردگی اور بجلی چوری کی وجہ سے مجموعی طور پر 472 ارب روپے کا نقصان ہوا جس میں 265 ارب روپے ترسیل و تقسیم اور 207 ارب روپے بلوں کی کم وصولی کی وجہ سے ڈوب گئے. رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ”ڈسکوز“میں اربوں روپے ماہانہ کی ہیراپھیریوں میں ان کمپنیوں کے سربراہان اور اعلی افسران سے لے کر نچلے درجے کے ملازمین شامل ہوتے ہیں‘لیسکو کی جانب سے رواں سال جون اور جولائی کے مہنیوں میں اربوں روپے کی اووربلنگ کی ہے تاہم اس کی آڈٹ رپورٹ 2027میں سامنے آئے گی. لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے بلنگ امورسے متعلق شعبے کے ایک سابق اعلی افسرنے نام ظاہر نہ کرنے شرط پر بتایا کہ ”ڈسکوز“سب سے زیادہ اووربلنگ گرمیوں کے تین مہینوں جون‘جولائی اور اگست میں کرتی ان مہینوں میں صارفین بجلی کا زیادہ استعمال کررہے ہوتے ہیں اس لیے اکثریت اس ڈاکے پر دھیان نہیں دیتی‘ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ گرمیوں کے ان تین مہینوں کے دوران ڈویژن کی سطح پر ”ٹارگٹ“مقرر کیئے جاتے ہیں جہاں سے سب ڈویژن کے ذریعے میٹرریڈرزکو بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے کتنے اضافی یونٹس صارفین کے کھاتے میں ڈالنا ہیں‘انہوں نے کہاکہ یہ سلسلہ نیا نہیں ہے اب یہ اس لیے نوٹس کیا جارہا ہے کہ بجلی قیمتیں اور ٹیکس غیرمعمولی حد تک بڑھ چکے ہیں اس لیے چند اضافی یونٹس بھی ریکارڈ پر آجاتے ہیں.