گوگل کا یاہو اور آؤٹ لک کے لیے سپورٹ ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: دہائیوں پہلے دنیا کو چیٹنگ کے ذریعے جوڑنے والی کمپنی اے او ایل کا انٹرنیٹ باب بند ہوگیا

گوگل کی ای میل سروس جی میل دنیا بھر میں اربوں صارفین استعمال کرتے ہیں اور یہ ذاتی و پیشہ ورانہ رابطے کا ایک مؤثر ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران جی میل میں اسپیم پروٹیکشن، بہتر سرچ اور دیگر کئی جدید سہولیات متعارف کرائی گئی ہیں۔

گوگل نے سنہ 2016 میں جی میلیفائی کے نام سے ایک فیچر متعارف کرایا تھا جس کا مقصد یاہو، آؤٹ لک، ہاٹ میل اور اے او ایل جیسے دیگر ای میل سروسز استعمال کرنے والے صارفین کو بغیر ای میل ایڈریس تبدیل کیے جی میل کی نمایاں سہولیات فراہم کرنا تھا۔

تاہم اب گوگل نے اعلان کیا ہے کہ جی میلیفائی فیچر کو جنوری 2026 تک مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔ اس حوالے سے گوگل نے صارفین کو باقاعدہ نوٹیفکیشنز بھیجنا بھی شروع کر دیے ہیں۔

جی میلیفائی کیا سہولیات فراہم کرتا تھا؟

جی میلیفائی کے ذریعے صارفین اپنی تمام ای میلز جی میل ایپ کے اندر ہی منظم کر سکتے تھے جہاں انہیں بہتر اسپیم فلٹرنگ، ان باکس کیٹیگریز (جیسے پروموشنز اور سوشل) اور موبائل پر مؤثر نوٹیفکیشنز جیسی سہولیات حاصل تھیں۔

دیگر اکاؤنٹس سے ای میل حاصل کرنے کی سہولت بھی ختم

گوگل نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ ’چیک میل فرام ادر اکاؤنٹس‘ فیچر کی سپورٹ بھی ختم کر رہا ہے جو پوسٹ آفس پروٹوکول  کے ذریعے دیگر ای میل سروسز سے پیغامات حاصل کرتا تھا۔ اس تبدیلی کے بعد جی میل دیگر فراہم کنندگان سے براہ راست نئی ای میلز حاصل نہیں کرے گا۔

مزید پڑھیے: گوگل پکسل فون کے ایک فیچر سے کالز لیک ہونے کا خدشہ

البتہ جو ای میلز پہلے سے درآمد کی جا چکی ہیں وہ صارفین کو دستیاب رہیں گی تاہم پوسٹ آفس پروٹوکول کے ذریعے مزید نئی ای میلز موصول نہیں ہوں گی۔

متبادل کیا ہوگا؟

گوگل کے مطابق اینڈرائیڈ اور آئی او ایس پر جی میل ایپ کے ذریعے صارفین اب بھی تھرڈ پارٹی ای میل اکاؤنٹس کو آئی ایم اے پی کے ذریعے استعمال کر سکیں گے تاہم اس صورت میں جی میل کی مخصوص سہولیات جیسے ان باکس کیٹیگریز اور مضبوط اسپیم کنٹرول دستیاب نہیں ہوں گے۔

ویب صارفین کے لیے گوگل نے آٹو فارورڈنگ کو متبادل حل کے طور پر تجویز کیا ہے۔ اگر متعلقہ ای میل سروس یہ سہولت فراہم کرتی ہو تو نئی ای میلز براہ راست جی میل کے مرکزی ان باکس میں موصول ہو سکیں گی۔

مزید پڑھیں: گوگل کی اے آئی نے جانیں خطرے میں ڈال دیں، غلط طبّی معلومات پر کارروائی

گوگل کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں صارفین کے لیے ای میل سروس کو مزید محفوظ اور جدید بنانے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں تاہم جی میلیفائی استعمال کرنے والے صارفین کو اب متبادل انتظامات کرنے ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آؤٹ لک جی میلیفائی فیچر ختم گوگل گوگل کی یاہو اور آؤٹ لک کو سپورٹ بند یاہو.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا ؤٹ لک گوگل یاہو استعمال کر صارفین کو کے ذریعے گوگل کی گوگل نے ا ؤٹ لک کے لیے جی میل

پڑھیں:

معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں بھارت میں ہونے والے احتجاج میں شامل ایک بھارتی طالبہ اپنی ہی حکومت کے مؤقف پر سوالات اٹھاتے ہوئے سخت تنقید کرتی نظر آ رہی ہے۔ ویڈیو میں طالبہ کا کہنا ہے کہ آپریشن سندور کے دوران پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے بھارتی رافیل طیارے گرائے اور بھارتی فوجیوں کو بھی مارا ہے تاہم اس وقت بھارتی حکومت نے ان تمام دعوؤں کو مکمل طور پر مسترد کر دیا تھا۔

Array koi baat nahi it's ok pic.twitter.com/ZwimtIcx4a

— iffi (@iffiViews) July 22, 2026

طالبہ ویڈیو میں کہتی ہے کہ اب اگر ایک سال بعد حکومت خود یہ تسلیم کر رہی ہے کہ اس دوران چھ بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے تو اس سے عالمی سطح پر یہی تاثر جائے گا کہ پاکستان کے دعوے درست تھے۔ اس صورتحال نے بھارتی حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے آخر میں وہ یہ بھی کہتی ہے کہ اس کے بعد پاکستان کے سامنے بھی ہماری عزت نہیں رہی۔

یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے شیئر کی جا رہی ہے جہاں صارفین اس پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔ بعض صارفین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے دیگر دعوے بھی درست تھے جبکہ کچھ صارفین نے بھارتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے حقائق چھپانے اور متضاد بیانات دینے کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انڈین آرمی بھارتی طیارے پاک آرمی پاک فوج پاکستانی فوج رافیل ویڈیو وائرل

متعلقہ مضامین

  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل