data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ملک کے بالائی علاقوں میں ہونے والی شدید اور مسلسل برفباری نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح درہم برہم کر دیا ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق آزاد کشمیر، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے بیشتر اضلاع میں کئی کئی فٹ برف جمع ہو چکی ہے، جس کے باعث اہم شاہراہیں بند، بجلی کا نظام متاثر اور روزمرہ سرگرمیاں معطل ہو کر رہ گئی ہیں۔

سخت موسمی حالات کی وجہ سے متعدد علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے جبکہ درجنوں مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔

آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں رات بھر جاری رہنے والی شدید برفباری نے شہریوں کو گھروں تک محدود کر دیا ہے۔ وادی نیلم، اپر نیلم، اٹھ مقام، سدھنوتی، باغ اور ہٹیاں بالا سمیت کئی علاقوں میں سڑکیں مکمل طور پر بند ہو چکی ہیں۔ ضلع حویلی میں برفباری کے دوران ایک ایمبولینس سمیت متعدد گاڑیاں برف میں پھنس گئیں، جن میں خواتین اور بچوں سمیت بڑی تعداد میں مسافر موجود تھے۔

اطلاع ملتے ہی پاک فوج اور سول انتظامیہ نے فوری طور پر ریسکیو کارروائیاں شروع کیں اور انتہائی مشکل حالات کے باوجود مسافروں کو بحفاظت نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

مظفرآباد میں کئی برس بعد ہونے والی برفباری سے سردی کی شدت میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ وادی نیلم میں شدید برفباری کے باعث چند مکانات منہدم ہوئے تاہم خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ برف اور مٹی کے تودے گرنے سے اہم رابطہ سڑکیں بند ہو گئیں، جس کے باعث مقامی آبادی کو خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی سہولیات کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

شدید برفباری اور تیز ہواؤں نے بجلی کے نظام کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں بجلی کے پول گرنے اور تاریں ٹوٹنے کے باعث کئی علاقوں میں طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ حکام کے مطابق موسم بہتر ہوتے ہی بحالی کا عمل شروع کیا جائے گا تاہم موجودہ حالات میں مرمتی کام میں دشواری پیش آ رہی ہے۔

خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں بھی وقفے وقفے سے برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔ وادی کاغان، دیربالا، کمراٹ اور لواری ٹنل میں شدید برفباری کے باعث آمدورفت معطل ہو چکی ہے، جس کے بعد انتظامیہ نے سیاحوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ملاکنڈ میں کئی سال بعد ہونے والی برفباری کے باعث درخت سڑکوں پر گر گئے، جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی، تاہم انتظامیہ کی جانب سے سڑکیں بحال کرنے کا عمل جاری ہے۔

گلگت بلتستان میں صورتحال مزید تشویشناک ہو گئی ہے جہاں شدید برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث شاہراہِ قراقرم مختلف مقامات پر بند کر دی گئی ہے۔ چلاس، اپر کوہستان اور استور میں کئی فٹ برف جمع ہونے سے نظامِ زندگی مفلوج ہو چکا ہے اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل بھی متاثر ہو رہی ہے۔ ہنزہ، نگر اور چیپورسن میں رابطہ سڑکوں کی بندش کے باعث مقامی آبادی خصوصاً خیموں میں مقیم متاثرین کو شدید سردی کا سامنا ہے۔

ملک کے مختلف حصوں میں جاری شدید برفباری کے پیش نظر پاک فوج، ریسکیو ادارے اور ضلعی انتظامیہ ہائی الرٹ ہیں اور متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند روز تک بالائی علاقوں میں سردی اور برفباری کا سلسلہ برقرار رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث عوام کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بالائی علاقوں میں برفباری کے کے باعث گئی ہے

پڑھیں:

جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا

جاپان نے شدید گرمی میں کام کرنے والے افراد کے لیے ایک منفرد ٹھنڈا کرنے والا کیبن متعارف کرا دیا ہے جسے ‘انسانی ریفریجریٹر’ کہا جا رہا ہے۔

یہ آلہ چند منٹ میں جسم کا درجہ حرارت کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور خاص طور پر تعمیراتی شعبے، فیکٹریوں اور کھلے مقامات پر کام کرنے والے افراد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں بڑھتی گرمی انسانی دماغ پر کیا اثر ڈال رہی ہے؟

جاپانی کمپنیوں کی تیار کردہ اس مشین کو ‘دو ہائیمون باکس’ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک چھوٹے کمرے یا کیبن کی طرح ہے جس میں ایک شخص داخل ہوکر گرمی سے فوری راحت حاصل کرسکتا ہے۔ اس کے اندر درجہ حرارت تقریباً 15 ڈگری سینٹی گریڈ رکھا جاتا ہے جبکہ ٹھنڈی ہوا سر، گردن، کندھوں اور کمر کی جانب پھینکی جاتی ہے۔

کمپنی کے مطابق چند منٹ کے استعمال سے جسم کو ٹھنڈک کا احساس ہونا شروع ہوجاتا ہے، جبکہ تقریباً 10 منٹ تک اس میں رہنے سے شدید گرمی کے اثرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ نظام پورے کمرے کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے صرف انسان کے جسم کو ٹھنڈا کرنے پر توجہ دیتا ہے، جس سے توانائی کی بچت بھی ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ریفریجریٹر سے پہلے پانی ٹھنڈا کرنے کی سعودی صحرائی ایجاد کیا تھی؟

یہ ایجاد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں شدید گرمی کی لہریں بڑھ رہی ہیں اور بیرونی کام کرنے والے افراد کو گرمی سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔

‘دو ہائیمون باکس’ کو کاروباری اداروں کے لیے فروخت کیا جا رہا ہے اور اسے فیکٹریوں، تعمیراتی مقامات اور دیگر گرم ماحول والی جگہوں پر استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news انسانی فریج جاپان گرمی

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل