این ڈی ایم اے نے پہاڑی و بالائی علاقوں میں شدید برفباری اور برفانی تودوں کے خطرے کا الرٹ جاری کردیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک کے پہاڑی اور بالائی علاقوں میں شدید برفباری اور برفانی تودے گرنے کے خطرے کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا میں شدید برفباری کا خدشہ، پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا
این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این او ای سی) کے مطابق 23 تا 29 جنوری کے دوران مغربی ہواؤں کے نئے سلسلے سے گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، شمالی خیبرپختونخوا اور شمالی بلوچستان کے بالائی علاقوں میں مزید برفباری متوقع ہے۔
این ڈی ایم اے نے عوام سے درخواست کی ہے کہ برفباری اور دھند کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور اگر سفر لازمی ہو تو احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ ریسپانس ٹیمیں اور برف ہٹانے والی مشینری الرٹ رہیں گی جبکہ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز ہنگامی تیاریوں کو یقینی بنائیں۔
مزید پڑھیں: بالائی علاقوں میں شدید برفباری، قومی شاہراہیں کھلی رکھنے کے احکامات جاری
مزید برف باری اور شدید سردی کے باعث پہاڑی علاقوں میں رابطہ سڑکوں پر پھسلن اور ٹریفک کی روانی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ این او ای سی نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ موسمی صورتحال، ممکنہ خطرات اور حفاظتی تدابیر کے لیے ’پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ‘ موبائل ایپ استعمال کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
این ڈی ایم اے برفانی تودے شدید برفباری نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: این ڈی ایم اے برفانی تودے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی بالائی علاقوں میں ڈی ایم اے
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔