موجودہ اور سابق پاکستانی کرکٹرز سے متعلق سرمایہ کاری میں مبینہ فراڈ کی خبروں پر کئی کھلاڑیوں نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ساتھ کسی قسم کا کوئی اسکینڈل یا دھوکہ دہی نہیں ہوئی۔

یہ وضاحتیں ان رپورٹس کے بعد سامنے آئیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ قومی ٹیم کے متعدد کھلاڑیوں نے امریکا میں مقیم ایک شخص کے زیرِ انتظام کاروبار میں سرمایہ کاری کر کے کروڑوں روپے کا نقصان اٹھایا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: لاہور میں سولر پینلز کا اربوں کا فراڈ، تاجروں کے پیسے کس نے ہڑپ کیے؟

میڈیا رپورٹس کے مطابق بعض کھلاڑیوں نے کہا ہے کہ انہوں نے ایک غیر ملکی کمپنی میں سرمایہ کاری ضرور کی ہے، تاہم انہیں تاحال کسی فراڈ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

کھلاڑیوں کا کہنا تھا کہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب صرف 2 کھلاڑیوں کے چیک باؤنس ہوئے، جس کے بعد میڈیا میں فراڈ کی خبریں گردش کرنے لگیں۔ ان کے مطابق کمپنی مسلسل رابطے میں ہے اور یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ تمام واجب الادا رقوم مارچ تک ادا کر دی جائیں گی۔

کھلاڑیوں نے یہ بھی بتایا کہ ایک کرکٹر، جس نے 4 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی تھی، اسے چند روز قبل 2 لاکھ درہم کی ادائیگی موصول ہوئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے بھی اس معاملے پر کھلاڑیوں سے رابطہ کیا۔ کھلاڑیوں نے انہیں بتایا کہ فی الحال کوئی سنگین مسئلہ درپیش نہیں اور اگر آئندہ کوئی پیچیدگی پیدا ہوئی تو پی سی بی کو آگاہ کیا جائے گا۔ کھلاڑیوں کے مطابق کمپنی کا مالک اس وقت دبئی میں موجود ہے اور ان سے مسلسل رابطے میں ہے۔

یہ بھی پڑھیے: این سی سی آئی اے کی کارروائی، سائبر فراڈ میں ملوث عالمی گروپ کے 34 ارکان گرفتار

دوسری جانب، اس کیس سے منسلک سرمایہ کاری کمپنی کے مالک نے بھی میڈیا سے رابطہ کر کے اپنا مؤقف پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی کرکٹرز 2023 سے ان کے ساتھ سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور کمپنی و کھلاڑیوں کے درمیان باقاعدہ تحریری معاہدے موجود ہیں۔

کمپنی مالک نے بتایا کہ تمام کرکٹرز کے پاس کمپنی کی جانب سے جاری کردہ گارنٹی چیک موجود ہیں۔ انہوں نے فراڈ کے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی امریکا نہیں گئے اور نہ ہی ان کے پاس امریکی ویزا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت دبئی میں مقیم ہیں اور تمام کھلاڑیوں سے مسلسل رابطے میں ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاکستان پی سی بی سرمایہ کاری کرکٹ کھلاڑی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان پی سی بی سرمایہ کاری کرکٹ کھلاڑی کھلاڑیوں نے سرمایہ کاری کے مطابق تھا کہ

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت