وزیراعلیٰ پنجاب کا بسنت کے ایام مفت سفری سہولیات کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بسنت کے تینوں روز لاہورمیں مفت سفری سہولیات کا اعلان کیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس ہوا جس میں بسنت فیسٹیول سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔
دوران اجلاس وزیراعلیٰ مریم نواز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے عوام کو خوشیاں لوٹانے آئی ہوں، پنجاب کے عوام سے خوشی کا ماحول چھین کر لڑائی جھگڑوں اور فتنہ فساد کے سپرد کر دیا گیا تھا، پنجاب دل والوں کا صوبہ ہے لیکن عوام کو تفریح سے دور کر دیا گیا۔
پنجاب میں ”اپنا کھیت،ا پنا روزگار پروگرام“ شروع کرنے کا فیصلہ
انہوں نے کہا کہ 30 سال بعد پنجاب میں ہارس اینڈ کیٹل شو شروع کیا، اس سا ل بھی منائیں گے، پنجاب میں آزادی کے ساتھ سب کو خوشی منانے کا حق حاصل ہے، یہ سب کا صوبہ ہے، عید، ہولی، کرسمس اور رمضان جس مذہب سے بھی اس کا تعلق ہوں اس کو خوشی منانے کا پورا حق ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ موسم بہار کی آمد کی اطلاع دینے والا بسنت کاخوبصورت تہوار 800 سال قبل شروع ہوا، بسنت پنجاب کی ثقافت اور ورثہ ہے، دنیا پنجاب کے کلچر کو بہت اہمیت دیتی ہے، پنجاب کے عوام کو بسنت کی خوشخبری دینا چاہتی ہوں، 6، 7 اور 8 فروری کو پہلی مرتبہ گورنمنٹ سپانسرڈ اور آرگنائزڈ بسنت منانے جارہے ہیں، بسنت جیسے تہوار کا حادثات سے منسلک ہونا افسوسناک ہے، شہریوں کی حفاظت کے لئے جامع سیفٹی پلان بنایا گیا ہے، لاہور کو ریڈ، ییلو اور گرین زون میں تقسیم کیا گیا ہے۔
حکومت نے مری میں سیاحوں کیلئےنئی سہولت متعارف کروادی
ان کا کہنا تھا کہ لاہور میں 10 لاکھ موٹرسائیکلوں پر مفت سیفٹی راڈز لگا رہے ہیں، بسنت کے تہوار کے لئے 2150 مینوفیکچر، ٹریڈرز، دکانداروں اور دیگر متعلقین کو رجسٹرڈ کیا گیا ہے، بسنت سے پہلے پتنگ بازی کرنے پر 600 سے زائد مقدمات درج اور 641 افراد گرفتار ہو چکے ہیں، غیر قانونی طور بنائی اور فروخت ہونے والی 27 ہزار سے زائد پتنگیں بھی برآمد کر لی گئی ہیں، بسنت منانے کے لئے 10ہزار سے زائد ضمانتی بانڈز لیے گئے ہیں، ہرصورت میں عوام کا تحفظ یقینی بنانے چاہتے ہیں، بسنت سیفٹی پلان عوام کو سزا دینے کیلئے نہیں بلکہ تحفظ کے لئے ہے، بسنت کے دوران ڈور کی چرخی کا استعمال ممنوع ہے، صرف پِنا استعمال کیا جا سکتا ہے، پتنگ بازی کے لئے کاٹن کے نو دھاگوں پر مشتمل ڈور ہی استعمال کی جا سکے گی، نائیلون اور دھاتی تار کی ڈور استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، مقررہ ساز سے بڑی پتنگ اور گُڈا بھی اڑانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
بینائی سے محروم افراد کو خصوصی افراد کی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ
وزیراعلیٰ پنجاب نے واضح کیا کہ ممنوعہ ڈور استعمال کرنے پر پانچ سال قید اور پانچ ملین روپے تک جرمانہ ہو گا، 7،6 اور 8 فروری کے علاوہ پتنگ بازی پر جرمانہ اور قید کی سزا دی جائے گی، غیر قانونی طور پر پتنگ بازی کرنے والوں کے والدین اور سرپرست ذمہ دار ہوں گے، قانونی کارروائی کریں گے۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ پتنگ بازی مذاق نہیں، عوام کی جان کے تحفظ کا معاملہ ہے، ریڈ زون میں سیفٹی راڈ کے ساتھ ہی بائیک کو آنے کی اجازت ہو گی، راڈ کے بغیر بائیک چلانے پر 2 ہزار روپے جرمانہ ہو گا، ہمارا مفاد نہیں صرف عوام کی حفاظت کے لئے کر رہے ہیں، ممنوعہ پتنگ بازی کے بارے میں اطلاع دینے پر انعام دیا جائے گا، بسنت کے موقع پر ٹریفک کیلئے خصوصی پلان بھی تیار کیا گیا ہے، 100 ٹریفک پولیس کیمپ لگائے جائیں گے، بسنت پر ستھرا پنجاب کے ورکروں کے علاوہ چار ہزار پولیس اہلکار بھی ڈیوٹی کریں گے، جہاں ڈور پھرنے کے واقعات پیش آئے ان علاقوں کو ریڈ زون قرار دیا گیا ہے، بسنت ٹرانسپورٹ پلان کے تحت شہریوں کو فری رائیڈ کی سہولت دیں گے، 500 بسیں چلارہے ہیں، اورنج لائن، میٹرو بس، الیکٹرو بس اور فیڈر بس پر سفر مفت ہو گا، یانگو کے 6 ہزار ر کشے اور 24 روٹس پر 60 ہزار رائیڈز میسر ہوں گی، فری رائیڈ کا مقصد بائیک کے استعمال سے روکنا اور نقصان سے بچنا ہے۔
پرائیویٹ سکولوں کی کتابوں اور یونیفارم کی زبردستی فروخت پر پابندی عائد
وزیراعلیٰ پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ سیف سٹی اور کمشنرآفس میں خصوصی کنٹرول روم قائم کیے گئے ہیں جہاں 24/7 ہائی الرٹ ہو گا، سی سی ٹی وی کیمروں اور ڈرون کے ذریعے تین روزہ بسنت میں مانیٹرنگ کی جائے گی، بسنت پر پولیس، فائربریگیڈ، ایمبولینس اور ہیلتھ پلان بھی تشکیل دیا گیا ہے،عوام سے ڈس انفارمیشن یا افواہوں پر کان نا دھرنے کی اپیل کرتی ہوں، بسنت عوام کی تفریح اورخوشی کیلئے ہے،ذہنی سکون کے ساتھ بسنت منائیں، 6 فروری کی رات بسنت فیسٹیول کی لانچنگ کی جائے گی اور 7 فروری کو باقاعدہ آغاز ہو گا۔
آن لائن گیم سے شادی تک: جرمن ڈاکٹر نے پاکستانی نوجوان سے شادی کر لی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔