ہائیکورٹ کے باہر جھگڑا کیس؛ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
انسداد دہشت گردی عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو جو ڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔
ایمان مزاری کی پیشی پر عدالت میں سیکیورٹی کے کڑے اقدامات کیے گیے تھے، وکلاء اور میڈیا کو عدالت میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔
اس سے قبل، ہائیکورٹ کے باہر جھگڑا کیس میں ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو آج صبح گرفتار کیا گیا تھا۔
دوسری جانب، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے متنازع ٹویٹس کیس پر سماعت کل تک ملتوی کر دی۔ پراسیکیوشن ٹیم عدالت میں پیش ہوئی لیکن ملزمان اور نہ وکیل صفائی عدالت میں پیش ہوئے۔
جج افضل مجوکا نے کہا کہ اگر کل ملزمان پیش نہ ہوئے تو جرح کا حق ختم ہو جائے گا، ملزمان کے حوالے سے ہمارے پاس کوئی اطلاعات نہیں۔
گرفتاری
ایمان مزاری اور ہادی علی کو سرینا ہوٹل کے باہر انڈر پاس کے قریب پولیس نے گرفتار کیا، دونوں ہائیکورٹ بار عہدیداران اور وکلاء کے ہمراہ ڈسٹرکٹ کورٹس جا رہے تھے۔
گرفتاری کے وقت پولیس نے کوریج کرنے والے صحافیوں سے موبائل چھین لیے۔
مذکورہ مقدمے میں گزشتہ روز انسداد دہشتگردی عدالت نے عدم پیشی پر دونوں کی ضمانت کی درخواستیں خارج کی تھیں۔ دونوں نے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں دائر کر رکھی تھیں۔
متنازع ٹویٹس کیس؛ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم
متنازع ٹوئٹس کیس:ایمان مزاری ان کے شوہر ہادی علی دوبارہ وارنٹ گرفتاری جاری
صدر اسلام آباد ہائی کورٹ بار واجد علی گیلانی نے وکلاء کو ویڈیو پیغام میں وکلاء کو ویمن پولیس اسٹیشن پہنچنے کا کہا گیا ہے۔
واجد علی گیلانی نے کہا کہ مجھ پر اور سیکریٹری بار پر تشدد کیا گیا، ہم پر تشدد کرکے گاڑی کے شیشے توڑ کر ایمان اور ہادی کو گرفتار کیا۔
اسلام آباد بار ایسوسی ایشن نے آج ہرتال کا اعلان کر دیا۔ اسلام آباد بار کا کہنا ہے کہ ملزمان کی ضلعی کچہری آنے کے وقت گرفتاری غیر قانونی ہے۔
بار ایسوسی ایشن نے ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی گرفتاری پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں میں آج کام معطل رہے گا۔
وکلاء نے انصاف اور تحفظ کے لیے متحد ہونے کا اعلان کیا، بار ایسوسی ایشن نے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ اسلام آباد ہائی کورٹ بار سے ڈسٹرکٹ کورٹس روانہ ہوئے تھے، دونوں وکلاء اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی وین میں روانہ ہوئے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے صدر واجد گیلانی اور منظور ججہ بھی ان کے ہمراہ تھے جبکہ پولیس اسکواڈ بھی ہائی کورٹ بار کی وین کے پیچھے ڈسٹرکٹ کورٹس روانہ ہوا۔
ہادی علی چٹھہ اور ایمان مزاری کی گاڑیاں راستے میں ہی روک لی گئی تھیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ اسلام آباد ہائی کورٹ بار ہادی علی چٹھہ کو بار ایسوسی ایشن عدالت میں
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔