میرے پسندیدہ فیلڈ مارشل کیسے ہیں؟ صدر ٹرمپ کا شہباز شریف سے سوال، دنیا بھر کے ٹی وی چینلز نے امریکی صدر اور شہباز شریف کو عاصم منیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دکھایا
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ڈیووس میں حالیہ ملاقات کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان سے سوال کیا، ’’میرے پسندیدہ فیلڈ مارشل کیسے ہیں؟‘‘ وزیراعظم نے بتایا کہ انہوں نے جواب میں مہمانوں کی اگلی صف میں بیٹھے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب اشارہ کیا۔ امن بورڈ کے معاہدے پر ارکان کی کے دستخط کی تقریب کے دوران دنیا بھر کے ٹی وی چینلز نے وزیراعظم شہباز شریف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فیلڈ مارشل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے دکھایا۔ دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے ورلڈ اکنامک فورم کے ڈیووس میں ہونےوالے اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہونے والی مختصر ملاقات کی تفصیلات بھی شیئر کیں اور کہا کہ انہوں نے غزہ کیلئے بورڈ آف پیس کے قیام کے اقدام پر صدر ٹرمپ کو سراہا، جسے انہوں نے جنگ سے متاثرہ خطے میں امن کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ وزیراعظم نے کہا، ’’میں نے صدر ٹرمپ سے کہا کہ اگر وہ فلسطینی عوام کیلئے امن، وقار اور بنیادی حقوق کو یقینی بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور غزہ کی تعمیر نو کا معاملہ کامیاب ہوا تو تاریخ اس اقدام کو ان کی عظیم وراثت کے طور پر یاد رکھے گی۔‘‘ اس موقع پر وزیراعظم نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے خاتمے میں صدر ٹرمپ کے موثر کردار کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا اور اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے کہا، ’’مسٹر پریذیڈنٹ، تاریخ آپ کو ایک ایسے عظیم رہنما کے طور پر یاد رکھے گی جس نے بروقت اور موثر انداز سے مداخلت کرکے خطے میں لاکھوں جانیں بچائیں۔‘‘ ملاقات کے ایک دلچسپ پہلو کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے خود پاکستان کے آرمی چیف کے بارے میں استفسار کیا۔ وزیراعظم کے مطابق یہ مختصر ملاقات خوشگوار ماحول میں اور نہایت مثبت اور تعمیری رہی۔
انصارعباسی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: شہباز شریف فیلڈ مارشل کرتے ہوئے انہوں نے
پڑھیں:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔
یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔
حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔
مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔
ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ
جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ