برطانوی وزیراعظم نے نیٹو فوجیوں سے متعلق ٹرمپ بیان کو توہین آمیز قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
برطانیہ کے وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے افغانستان جنگ کے دوران غیر امریکی نیٹو افواج کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کی سخت مذمت کی ہے۔
غیرملکی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ افغانستان میں غیر امریکی نیٹو فوجی محاذ جنگ سے پیچھے رہے تھے۔
کیئر اسٹارمر نے کہا کہ ’میں صدر ٹرمپ کے اس بیان کو توہین آمیز، اور سچ کہوں تو، انتہائی افسوسناک سمجھتا ہوں‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں اس بات پر حیرت نہیں کہ ان بیانات سے ملک بھر میں ’شدید دکھ اور تکلیف‘ کا احساس پیدا ہوا۔
برطانوی وزیرِ اعظم نے افغانستان میں ہلاک ہونے والے برطانوی مسلح افواج کے 457 اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ ان کی قربانی کو کبھی فراموش نہیں کرے گا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ بعض حلقے صدر ٹرمپ سے معافی کا مطالبہ کر رہے ہیں تو کیئر اسٹارمر نے اس مؤقف سے اتفاق کا اشارہ دیا تاہم انہوں نے براہِ راست معافی کا مطالبہ نہیں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر میں نے اس طرح کی بات کی ہوتی یا ایسے الفاظ استعمال کیے ہوتے تو میں یقیناً معذرت کرتا‘۔
خیال رہے کہ جمعرات کو ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے تھا کہا کہ وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ اگر امریکا کو کسی بڑے خطرے کا سامنا ہو تو نیٹو اس کے دفاع کے لیے امتحان پر پورا اترے گا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ’ہمیں کبھی ان کی ضرورت نہیں پڑی۔ وہ کہیں گے کہ انہوں نے افغانستان میں کچھ فوجی بھیجے اور بھیجے بھی، لیکن وہ ذرا پیچھے رہے، محاذِ جنگ سے کچھ دور‘۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔