سعودی شہزادہ فیصل بن ترکی انتقال کرگئے، مسجد الحرام میں نماز جنازہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سعودی عرب کے شاہی خاندان کے رکن شہزادہ فیصل بن ترکی مکہ مکرمہ میں انتقال کر گئے ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق سعودی ایوانِ شاہی کی جانب سے جاری بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ شہزادہ فیصل بن ترکی کا انتقال گزشتہ روز ہوا، جس کے بعد شاہی خاندان اور عوامی سطح پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
سعودی ایوانِ شاہی کے بیان کے مطابق شہزادہ فیصل بن ترکی کی نماز جنازہ مسجد الحرام میں ادا کی گئی، جس میں شاہی خاندان کے افراد، اعلیٰ حکومتی حکام، ممتاز علما، معزز شخصیات اور بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی۔ نماز جنازہ مکہ مکرمہ کے نائب گورنر شہزادہ سعود بن مشعل بن عبدالعزیز نے پڑھائی ۔
ایوانِ شاہی کی جانب سے جاری بیان میں مرحوم شہزادے کے لیے دعائے مغفرت اور درجات کی بلندی کی اپیل کی گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور اہل خانہ کو صبر جمیل عطا کرے۔ سعودی معاشرے میں شہزادہ فیصل بن ترکی کو ایک جہاندیدہ اور نرم خو شخصیت کے طور پر جانا جاتا تھا۔
عرب میڈیا کے مطابق مرحوم شہزادہ فیصل بن ترکی فلاحی اور سماجی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کرتے تھے ۔ عوامی سطح پر بھی ان کی خدمات کو سراہا جاتا تھا۔ شاہی خاندان اور عام شہریوں میں ان کی مقبولیت یکساں تھی اور انہیں ایک انسان دوست اور خدمت گزار شخصیت کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب خطے کے دیگر ممالک کی قیادت کی جانب سے بھی تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے سعودی عرب کے فرمانروا اور خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کو شہزادہ فیصل بن ترکی کے انتقال پر تعزیتی پیغام ارسال کیا۔ اسی طرح قطر کے نائب امیر شیخ عبداللہ بن حمد آل ثانی اور وزیر اعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی نے بھی شاہ سلمان کو الگ الگ تعزیتی مراسلے بھیج کر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شہزادہ فیصل بن ترکی شاہی خاندان
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔