ورلڈ کپ سے پہلے آسٹریلوی فاسٹ بولنگ لائن انجریز کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹی 20 ورلڈ کپ سے قبل آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق فاسٹ بولر نیتھن ایلس بگ بیش لیگ کے دوران ہیمسٹرنگ انجری کا شکار ہو گئے، جس نے نہ صرف ٹیم مینجمنٹ کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے بلکہ عالمی ایونٹ کے لیے آسٹریلیا کی فاسٹ بولنگ حکمتِ عملی پر بھی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
ذرائع کے حواے سے میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ نیتھن ایلس کو یہ انجری بگ بیش لیگ کے ایک میچ کے دوران پیش آئی، جس کے بعد انہیں فوری طور پر میدان سے باہر جانا پڑا۔ انجری کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ 7 فروری سے شروع ہونے والے ٹی 20 ورلڈ کپ کے ابتدائی میچز میں شرکت کے قابل نہ رہیں۔
نیتھن ایلس ہوبارٹ ہریکینز کے کپتان بھی ہیں اور ان کی عدم دستیابی ٹیم کے لیے بھی ایک بڑا نقصان سمجھی جا رہی ہے۔
نیتھن ایلس کی انجری نے آسٹریلیا کی فاسٹ بولنگ لائن اپ کے حوالے سے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے کیونکہ اس سے قبل بھی دو اہم فاسٹ بولرز جوش ہیزل ووڈ اور پیٹ کمنز انجریز کا شکار رہ چکے ہیں۔ آسٹریلوی ٹیم مینجمنٹ پہلے ہی محدود اختیارات کے ساتھ ورلڈ کپ کی تیاری کر رہی تھی اور اب ایک اور اہم بولر کے مشکوک ہونے سے مشکلات دوچند ہو گئی ہیں۔
جوش ہیزل ووڈ گزشتہ برس نومبر سے کسی بین الاقوامی میچ میں شرکت نہیں کر سکے تھے اور ایشز سیریز میں بھی وہ کسی میچ کا حصہ نہیں بنے۔
ٹیم انتظامیہ کو امید ہے کہ وہ ورلڈ کپ سے قبل مکمل فٹ ہو جائیں گے، تاہم طویل عرصے کے بعد واپسی کے باعث ان کی فارم پر بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب پیٹ کمنز کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ ٹورنامنٹ کے بعد کے مرحلے میں ٹیم کو جوائن کریں گے، جس کے باعث ابتدائی میچز میں ان کی خدمات دستیاب نہیں ہوں گی۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق ٹی 20 جیسے تیز رفتار فارمیٹ میں فاسٹ بولرز کی مکمل فٹنس اور تسلسل انتہائی اہم ہوتا ہے اور آسٹریلیا کو مسلسل انجریز کے باعث کمبینیشن بنانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ نیتھن ایلس کی ممکنہ عدم شمولیت آسٹریلیا کے لیے بڑا دھچکا تصور کی جا رہی ہے کیونکہ وہ ڈیتھ اوورز میں مؤثر بولنگ کے لیے جانے جاتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔