ڈیجیٹل دور میں سائبر سیکیورٹی قومی سلامتی کا اہم ستون بن چکی ہے، احسن اقبال
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ جس طرح کسی ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت ضروری ہوتی ہے، اسی طرح ڈیجیٹل اور سائبر سرحدوں کا تحفظ بھی اب قومی سلامتی کا ناگزیر حصہ بن چکا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ڈیجیٹل نظاموں کی ہیکنگ نہ صرف ریاستی اداروں بلکہ عام شہریوں، معیشت اور جمہوری عمل کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:این ایف سی ایوارڈ میں آبادی کا معیار اصلاح طلب ہے، احسن اقبال کی نشاندہی
لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ اگر کسی ملک کے ڈیجیٹل سسٹمز کو ہیک کر لیا جائے تو اس کا پاور گرڈ فیل کیا جا سکتا ہے، اسمارٹ سٹی کے کیمروں کو غلط مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نظام جرائم پیشہ گروہوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بینکاری نظام میں مداخلت ہو جائے تو نہ صرف مالیاتی شفافیت بلکہ پورے مالیاتی آپریشنز متاثر ہو سکتے ہیں۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ آنے والے دور میں چونکہ ہتھیار بھی ڈیجیٹل ہو چکے ہیں، اس لیے قومی دفاع کا تعلق بھی براہِ راست ڈیجیٹل سیکیورٹی سے جڑ گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ڈیجیٹائزیشن جتنی اہم ہو گئی ہے، سائبر سیکیورٹی بھی اتنی ہی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ چیلنجز صرف قومی سطح تک محدود نہیں بلکہ انفرادی سطح پر بھی خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق آج سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور گوگل جیسے ڈیجیٹل نظام کسی فرد کی نفسیات، پسند ناپسند اور آئندہ فیصلوں کا اندازہ اس کے قریبی رشتہ داروں سے بھی بہتر لگا سکتے ہیں، جس کی وجہ بگ ڈیٹا اور جدید ٹیکنالوجی کی غیر معمولی پیش گوئی کرنے کی صلاحیت ہے۔
انہوں نے کہا کہ بگ ڈیٹا اور ٹیکنالوجی کے امتزاج نے جمہوریت کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج پیدا کر دیا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے ووٹرز کی رائے اور انتخابی فیصلوں کو متاثر اور منظم طریقے سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مصنوعی گروتھ نہیں، پائیدار ترقی ہدف ہے، حکومت محتاط معاشی پالیسی پر عمل پیرا ہے، احسن اقبال
احسن اقبال نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے اب تک نیٹ فلکس پر موجود فلم ’دی گریٹ ہیک‘ نہیں دیکھی تو ضرور دیکھیں، کیونکہ اس سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ کس طرح سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو لوگوں کی سوچ، رائے اور فیصلوں کو متاثر کرنے اور انہیں اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ایک نئی اور طاقتور مینیپولیٹو صلاحیت ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ ڈس انفارمیشن پھیلانا اب انتہائی آسان ہو چکا ہے، جبکہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی آمد کے بعد ایک عام آدمی کے لیے یہ پہچاننا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے کہ کوئی ویڈیو یا آڈیو اصل ہے یا مصنوعی۔ ان کے مطابق اے آئی کے ذریعے تیار کردہ مواد نے سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق کو مزید دھندلا دیا ہے، جسے مختلف عناصر اپنے مخصوص مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
احسن اقبال نے کہا کہ وہ خود ڈیجیٹل عدم برداشت، نفرت انگیز مواد اور غلط معلومات کے نتائج کا شکار رہ چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2018 میں بعض سیاسی گروہوں نے مذہب کا کارڈ استعمال کرتے ہوئے ان کے خلاف ڈس انفارمیشن اور ہیٹ اسپِیچ پھیلائی، جس سے متاثر ہو کر ایک نوجوان نے ان پر قاتلانہ حملے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ حملہ آور سے ان کا کوئی ذاتی تعلق، جھگڑا یا دشمنی نہیں تھی، لیکن صرف آن لائن نفرت انگیز مواد سے متاثر ہو کر اس نوجوان نے یہ قدم اٹھایا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اس حملے میں چلائی گئی گولی آج بھی ان کے جسم میں موجود ہے اور انہیں روزانہ اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ نفرت اور غلط معلومات کا مقابلہ کرنا کتنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ نے تو ان کی جان بچا لی، لیکن اس واقعے میں ایک نوجوان کی زندگی بھی تباہ ہو گئی جو جیل پہنچ گیا، حالانکہ اگر وہ نفرت انگیز مواد سے متاثر نہ ہوتا تو ایک کارآمد شہری بن سکتا تھا۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ نئی نسل میں ڈیجیٹل ریزیلینس پیدا کرنا بے حد ضروری ہے، تاکہ وہ ڈیجیٹل ذرائع سے آنے والی معلومات کو بغیر سوچے سمجھے قبول کرنے کے بجائے جانچ سکیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر افراد میں جھوٹ اور سچ میں فرق کرنے کی صلاحیت نہ ہو تو وہ آسانی سے غلط مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں اور معاشرے میں انتشار کا سبب بن سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ووٹر کی عمر 18 سے بڑھا کر 25 سال کرنے سے متعلق خبروں میں کوئی صداقت نہیں، احسن اقبال
انہوں نے کہا کہ جدید دور کی جنگ اب معلومات کے میدان میں لڑی جا رہی ہے، جہاں بہت آسانی سے لوگوں کے درمیان خوف، بداعتمادی اور تقسیم پیدا کی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق انفارمیشن وار کے ذریعے ریاست کے اندر شہریوں اور اداروں کے درمیان اعتماد کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے اور مذہب، لسانیت اور دیگر حساس بنیادوں پر معاشرے کو تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
وفاقی وزیر نے زور دیا کہ ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے تعلیمی نظام کے ذریعے نوجوانوں میں تنقیدی سوچ اور معلومات کو پرکھنے کی صلاحیت پیدا کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسی مقصد کے تحت ہائر ایجوکیشن کمیشن کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ جامعات کو اس بات کا پابند بنائے کہ طلبہ میں ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کے مطابق سچ اور جھوٹ میں فرق کرنے کی اہلیت پیدا کی جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
احسن اقبال وفاقی وزیر منصوبہ بندی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: احسن اقبال وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا انہوں نے کہا کہ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے وفاقی وزیر کے ذریعے سکتے ہیں کے مطابق پیدا کر کیا کہ کہ اگر
پڑھیں:
سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ اگر اس مرتبہ بھی انہیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو 10 جون کو ملک بھر سے پارلیمنٹیرین اسلام آباد پہنچ کر قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے۔اڈیالہ روڈ سے روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت بانی پی ٹی آئی کی جماعت کی حکومت ہے اور صوبے کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہے، اس لیے عوام کی خواہش ہے کہ صوبائی بجٹ ان کی ہدایات اور ترجیحات کے مطابق مرتب کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بجٹ کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کر کے ان کی منظوری حاصل کی جائے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، امن عامہ کی صورتحال اور اہم امور پر تبادلۂ خیال
سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ وہ کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کریں گے اور امید ہے کہ اس مرتبہ ملاقات کی اجازت مل جائے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آج بھی بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کوئی جرم نہیں کیا بلکہ انہیں ناحق قید رکھا گیا ہے۔ ان کے بقول پنجاب حکومت اور جیل انتظامیہ کی غفلت کے باعث بانی پی ٹی آئی کی آنکھ میں مسئلہ پیدا ہوا جبکہ عوام میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ ملاقاتوں پر پابندی کیوں عائد کی جا رہی۔
مایوسی کا دور ختم ، ہم ایک ماہ میں پوسٹ حج آپریشن کامیابی سے مکمل کریں گے: کنٹری منیجر ظہیرالدین آغا
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا ہے اور صرف وہی وزیراعلیٰ کو تبدیل کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ان کی ملاقات بیرسٹر گوہر کی درخواست پر ہوئی تھی، علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان پاکستان کا برادر اسلامی ملک ہے اور کسی کی خوشنودی کے لیے دونوں ممالک کے تعلقات خراب نہیں ہونے چاہئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی ہمیشہ یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور پاکستان کو خطے میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے، خیبرپختونخوا کے آئندہ بجٹ میں سماجی بہبود، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔کرپشن کے الزامات کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کے دفتر کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں اور اگر کسی کے پاس کرپشن کے ثبوت ہیں تو وہ سامنے لائے۔
بری طرح تھکا ہوا تھا، خستہ حال بے خوابی سے بوجھل سوجی آنکھوں میں نیند کی شدت کا درد، آتے ہی چارپائی پر ایسا گرا کہ شام تک ہوش ہی نہیں آیا
مزید :