وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ جس طرح کسی ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت ضروری ہوتی ہے، اسی طرح ڈیجیٹل اور سائبر سرحدوں کا تحفظ بھی اب قومی سلامتی کا ناگزیر حصہ بن چکا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ڈیجیٹل نظاموں کی ہیکنگ نہ صرف ریاستی اداروں بلکہ عام شہریوں، معیشت اور جمہوری عمل کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:این ایف سی ایوارڈ میں آبادی کا معیار اصلاح طلب ہے، احسن اقبال کی نشاندہی

لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ اگر کسی ملک کے ڈیجیٹل سسٹمز کو ہیک کر لیا جائے تو اس کا پاور گرڈ فیل کیا جا سکتا ہے، اسمارٹ سٹی کے کیمروں کو غلط مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نظام جرائم پیشہ گروہوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بینکاری نظام میں مداخلت ہو جائے تو نہ صرف مالیاتی شفافیت بلکہ پورے مالیاتی آپریشنز متاثر ہو سکتے ہیں۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ آنے والے دور میں چونکہ ہتھیار بھی ڈیجیٹل ہو چکے ہیں، اس لیے قومی دفاع کا تعلق بھی براہِ راست ڈیجیٹل سیکیورٹی سے جڑ گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ڈیجیٹائزیشن جتنی اہم ہو گئی ہے، سائبر سیکیورٹی بھی اتنی ہی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ چیلنجز صرف قومی سطح تک محدود نہیں بلکہ انفرادی سطح پر بھی خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق آج سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور گوگل جیسے ڈیجیٹل نظام کسی فرد کی نفسیات، پسند ناپسند اور آئندہ فیصلوں کا اندازہ اس کے قریبی رشتہ داروں سے بھی بہتر لگا سکتے ہیں، جس کی وجہ بگ ڈیٹا اور جدید ٹیکنالوجی کی غیر معمولی پیش گوئی کرنے کی صلاحیت ہے۔

انہوں نے کہا کہ بگ ڈیٹا اور ٹیکنالوجی کے امتزاج نے جمہوریت کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج پیدا کر دیا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے ووٹرز کی رائے اور انتخابی فیصلوں کو متاثر اور منظم طریقے سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مصنوعی گروتھ نہیں، پائیدار ترقی ہدف ہے، حکومت محتاط معاشی پالیسی پر عمل پیرا ہے، احسن اقبال

احسن اقبال نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے اب تک نیٹ فلکس پر موجود فلم ’دی گریٹ ہیک‘ نہیں دیکھی تو ضرور دیکھیں، کیونکہ اس سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ کس طرح سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو لوگوں کی سوچ، رائے اور فیصلوں کو متاثر کرنے اور انہیں اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ایک نئی اور طاقتور مینیپولیٹو صلاحیت ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ ڈس انفارمیشن پھیلانا اب انتہائی آسان ہو چکا ہے، جبکہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی آمد کے بعد ایک عام آدمی کے لیے یہ پہچاننا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے کہ کوئی ویڈیو یا آڈیو اصل ہے یا مصنوعی۔ ان کے مطابق اے آئی کے ذریعے تیار کردہ مواد نے سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق کو مزید دھندلا دیا ہے، جسے مختلف عناصر اپنے مخصوص مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

احسن اقبال نے کہا کہ وہ خود ڈیجیٹل عدم برداشت، نفرت انگیز مواد اور غلط معلومات کے نتائج کا شکار رہ چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2018 میں بعض سیاسی گروہوں نے مذہب کا کارڈ استعمال کرتے ہوئے ان کے خلاف ڈس انفارمیشن اور ہیٹ اسپِیچ پھیلائی، جس سے متاثر ہو کر ایک نوجوان نے ان پر قاتلانہ حملے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ حملہ آور سے ان کا کوئی ذاتی تعلق، جھگڑا یا دشمنی نہیں تھی، لیکن صرف آن لائن نفرت انگیز مواد سے متاثر ہو کر اس نوجوان نے یہ قدم اٹھایا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اس حملے میں چلائی گئی گولی آج بھی ان کے جسم میں موجود ہے اور انہیں روزانہ اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ نفرت اور غلط معلومات کا مقابلہ کرنا کتنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ نے تو ان کی جان بچا لی، لیکن اس واقعے میں ایک نوجوان کی زندگی بھی تباہ ہو گئی جو جیل پہنچ گیا، حالانکہ اگر وہ نفرت انگیز مواد سے متاثر نہ ہوتا تو ایک کارآمد شہری بن سکتا تھا۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ نئی نسل میں ڈیجیٹل ریزیلینس پیدا کرنا بے حد ضروری ہے، تاکہ وہ ڈیجیٹل ذرائع سے آنے والی معلومات کو بغیر سوچے سمجھے قبول کرنے کے بجائے جانچ سکیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر افراد میں جھوٹ اور سچ میں فرق کرنے کی صلاحیت نہ ہو تو وہ آسانی سے غلط مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں اور معاشرے میں انتشار کا سبب بن سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ووٹر کی عمر 18 سے بڑھا کر 25 سال کرنے سے متعلق خبروں میں کوئی صداقت نہیں، احسن اقبال

انہوں نے کہا کہ جدید دور کی جنگ اب معلومات کے میدان میں لڑی جا رہی ہے، جہاں بہت آسانی سے لوگوں کے درمیان خوف، بداعتمادی اور تقسیم پیدا کی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق انفارمیشن وار کے ذریعے ریاست کے اندر شہریوں اور اداروں کے درمیان اعتماد کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے اور مذہب، لسانیت اور دیگر حساس بنیادوں پر معاشرے کو تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

وفاقی وزیر نے زور دیا کہ ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے تعلیمی نظام کے ذریعے نوجوانوں میں تنقیدی سوچ اور معلومات کو پرکھنے کی صلاحیت پیدا کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسی مقصد کے تحت ہائر ایجوکیشن کمیشن کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ جامعات کو اس بات کا پابند بنائے کہ طلبہ میں ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کے مطابق سچ اور جھوٹ میں فرق کرنے کی اہلیت پیدا کی جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

احسن اقبال وفاقی وزیر منصوبہ بندی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: احسن اقبال وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا انہوں نے کہا کہ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے وفاقی وزیر کے ذریعے سکتے ہیں کے مطابق پیدا کر کیا کہ کہ اگر

پڑھیں:

چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد:

حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔

سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔

وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی