71 افراد جاں بحق، گل پلازہ 90 فیصد کلیئر، 82 میں سے صرف 11 لاپتہ رہ گئے
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
جاں بحق افراد کی تعداد 71 ہوگئی، گل پلازہ نوے فیصد کلیئر کر دیا گیا، بیاسی افراد میں سے صرف گیارہ لاپتہ رہ گئے۔ڈی سی ساؤتھ جاوید نبی کھوسو نے تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ سرچ آپریشن آج رات مکمل ہونے کا امکان ہے، سنارکل کی مدد سے ریسکیو ٹیمیں پھر بالائی منزل میں داخل ہوئیں، عمارت کے انتہائی حساس حصے میں سرچ آپریشن تاحال شروع نہیں کیا جا سکا۔پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کے مطابق 16 افراد کی شناخت ہوچکی، لاشیں جل جانے کی وجہ سے ڈی این اے کا عمل بھی پیچیدہ ہے، جاں بحق افراد کے اہل خانہ کیلئے امدادی رقم کے اجرا کا عمل شروع کر دیا گیا، 8 افراد کے لواحقین کے کوائف مکمل کر لئے۔ڈپٹی کمشنر جنوبی نے اہل خانہ کو امداد کیلئے کیسز سندھ حکومت کو ارسال کر دیئے، سندھ حکومت نے جاں بحق افراد کے لواحقین کو ایک، ایک کروڑ روپے دینے کا اعلان کر رکھا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔