پاکستان پر انڈر 19 ورلڈ کپ میں ’چالاکی‘ کا الزام، بھارت کے خلاف میچ سے پہلے جرمانے کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
سوشل میڈیا پر شائقین کرکٹ کی جانب سے پاکستان کی انڈر 19 ٹیم پر الزام تراشیاں کی جانے لگیں۔ انڈر 19 کرکٹ ورلڈ کپ 2026 کے گروپ اسٹیج مقابلے کے دوران جمعرات کو دلچسپ صورتحال دیکھنے کو ملی جب پاکستان نے میزبان ملک زمبابوے کے خلاف محض 129 رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے مبینہ طور پر (Slow Run Chase) یعنی آہستہ کھیل پیش کیا۔
ہرارے میں کھیلے گئے میچ میں پاکستان کے کپتان فرحان یوسف نے پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ جس کے بعد میزبان ٹیم زمبابوے کی بیٹنگ لائن اوپنر ناتھانیئل ہلابانگانا کی نصف سنچری کے باوجود 35.
تاہم اس میچ کے بعد پاکستان کی انڈر 19 ٹیم پر چالاکی کا الزامات عائد کیے گئے اور ساتھ ہی جرمانے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جانے لگا۔
قومی ٹیم پر الزام عائد کیا گیا کہ پاکستان نے زمبابوے کو سپر سکس مرحلے کے لیے کوالیفائی کرنے میں مدد کی اور ٹورنامنٹ کے نیٹ رن ریٹ کے قوانین کی وجہ سے پاکستان نے اسکاٹ لینڈ کو مقابلے سے باہر کر دیا۔
بعدازاں یہ واضح ہوا کہ یہ ایک حساب شدہ حکمت عملی تھی جس کا مقصد ٹورنامنٹ کے ریاضیاتی فارمولے کے تحت فائدہ حاصل کرنا تھا۔
پاکستان نے ابتدائی طور پر 129 رنز کا ہدف تیزی سے مکمل کیا اور 14 ویں اوور تک 84 رنز بنائے۔
اس وقت اسکاٹ لینڈ بھی پاکستان کے ساتھ سپر سکس کے لیے کوالیفائی کر رہا تھا۔
لیکن بعد میں پاکستان نے رنز بنانے کی رفتار کم کر دی تاکہ چیس کے اختتام کا مارجن اور وقت کنٹرول کیا جا سکے۔
16 ویں اوور سے 25 ویں اوور تک، پاکستان نے صرف 27 رنز بنائے اور 50 گیندیں بغیر رنز کے کھیلیں۔
اس دوران 89 گیندوں تک کوئی چوکا یا چھکا نہیں آیا، حالانکہ مطلوبہ رن ریٹ مکمل کنٹرول میں تھا۔
پاکستان نے ٹارکٹ 26.2 اوورز میں مکمل کیا جس سے زمبابوے سپر سکس میں پہنچ گیا اور اسکالینڈ باہر ہو گیا۔
انڈر 19 ورلڈ کپ کا ایک خاص قانون یہ ہے کہ ٹیمیں گروپ مرحلے سے اپنی نیٹ رن ریٹ سپر سکس میں لے جا سکتی ہیں، لیکن یہ صرف اُن میچوں کے نیٹ رن ریٹ کے لیے ممکن ہے جس میں مخالف ٹیم بھی سپر سکس کے لیے کوالیفائی کر چکی ہو۔
اگر پاکستان نے ہدف 25.2 اوورز سے پہلے حاصل کر لیا ہوتا تو زمبابوے کے بجائے اسکالینڈ کوالیفائی کر جاتا اور پاکستان کا اسکالینڈ کے خلاف نیٹ رن ریٹ سپر سکس میں منتقل ہوجاتا۔
پاکستان نے اسکالینڈ کو 41 گیندیں بچا کر ہرا دیا تھا، لیکن زمبابوے کے خلاف جیت کا مارجن زیادہ بہتر تھا جس میں 142 گیندیں بچی تھیں۔
پاکستان نے 26.2 اوورز میں ہدف حاصل کیا، جس سے زمبابوے گروپ میں اسکالینڈ سے آگے کوالیفائی کر گیا اور پاکستان کا زیادہ نیٹ رن ریٹ زمبابوے سے سپر سکس میں منتقل ہوگیا۔
تاہم آئی سی سی کے کوڈ آف کنڈکٹ کے آرٹیکل 2.11 کے مطابق، نیٹ رن ریٹ میں کسی بھی غیر مناسب مداخلت یا حکمت عملی سے ٹیم کے کپتان کو پابندی یا دیگر کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
پاکستان کے معاملے میں یہ ذمہ داری کپتان فرحان یوسف پر ہو سکتی ہے۔
آئی سی سی کے قانون کے مطابق ’آرٹیکل 2.11‘ انٹرنیشنل میچز میں غیر مناسب حکمت عملی یا ٹیکٹیکل وجوہات کی بنیاد پر نتائج میں مداخلت کو روکنے کے لیے بنایا گیا ہے۔
یہ نیٹ رن ریٹ یا بونس پوائنٹس میں غیر مناسب مداخلت پر بھی لاگو ہو سکتا ہے۔
اس میں کسی بھی کرپشن یا فراڈ کے معاملات شامل نہیں ہیں۔ کسی بھی ٹیم کا کپتان اس آرٹیکل کی خلاف ورزی پر سزا پا سکتا ہے۔
تاہم زمبابوے کے سابق کرکٹر اینڈی فلاور نے اس حوالے سے ای ایس پی این کرک انفو کو بتایا کہ پاکستان کی زمبابوے کے خلاف حکمت عملی قوانین کے دائرے میں تھی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ پاکستان نے پہلے جیت کو یقینی بنایا اور پھر رفتار کم کی تاکہ زمبابوے کو سپر سکس میں پہنچایا جا سکے۔
آئی سی سی کی جانب سے اس معاملے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کوالیفائی کر پاکستان نے زمبابوے کے نیٹ رن ریٹ حکمت عملی کے خلاف کے لیے
پڑھیں:
فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کے اختتام پر شاندار کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا ہے، جس میں عالمی فٹبال کے کئی نامور ستاروں کو پورے ایونٹ میں بہترین کھیل کی بنیاد پر شامل کیا گیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق منتخب ٹیم میں ارجنٹائن کے کپتان لیونل میسی، فرانس کے کپتان کیلیان ایمباپے اور ناروے کے اسٹار اسٹرائیکر ایرلنگ ہالینڈ کو فرنٹ لائن کا حصہ بنایا گیا ہے۔
مڈفیلڈ میں ورلڈ کپ کے گولڈن بال کے فاتح اور اسپین کے کپتان روڈری ، انگلینڈ کے جوڈ بیلنگھم اور فرانس کے مائیکل اولیسے کو جگہ دی گئی ہے، جنہوں نے پورے ٹورنامنٹ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
دفاعی لائن میں کیپ وردے کے گول کیپر ووزینیا کو منتخب کیا گیا ہے، جبکہ اسپین کے عالمی چیمپئن مارک کوکوریلا اور پیڈرو پورو ، فرانس کے ڈایو اوپامیکانو اور ارجنٹائن کے لیساندرو مارٹینیز بھی دفاع کا حصہ ہیں۔
فیفا کے مطابق ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا انتخاب کھلاڑیوں کی مجموعی کارکردگی، ٹیم پر اثراندازی اور پورے ایونٹ کے دوران مستقل بہترین کھیل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
دوسری جانب فیفا نے ورلڈ کپ کے اختتام پر نئی عالمی رینکنگ بھی جاری کر دی ہے۔ نئی عالمی چیمپئن اسپین ایک درجہ ترقی کے بعد دنیا کی نمبر ایک ٹیم بن گئی، جبکہ رنر اپ ارجنٹائن ایک درجہ تنزلی کے بعد دوسرے نمبر پر چلی گئی۔
رینکنگ میں فرانس تیسرے اور انگلینڈ چوتھے نمبر پر برقرار ہیں، جبکہ برازیل اور مراکش ایک، ایک درجہ ترقی کے ساتھ بالترتیب پانچویں اور چھٹے نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔
ادھر کرسٹیانو رونالڈو کی پرتگال دو درجے تنزلی کے بعد ساتویں نمبر پر آ گئی، جبکہ میزبان میکسیکو نے ورلڈ کپ میں عمدہ کارکردگی کی بدولت چار درجے ترقی کرکے ٹاپ ٹین میں جگہ بنا لی۔
ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل کرنے والی ناروے کی ٹیم نے بھی نمایاں پیش رفت کرتے ہوئے 12 درجے ترقی کی اور عالمی رینکنگ میں 19ویں پوزیشن حاصل کر لی۔