عبدالقادر المرتضیٰ کا تمام سیاسی فریقین سے مسقط معاہدے کی پاسداری پر زور
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
اپنے ایک ٹویٹ میں انصار اللہ کے رہنماء كا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے عملی نفاذ کی طے شدہ تاریخ 27 جنوری ہے، لیکن بدقسمتی سے اب تک اس معاہدے میں شامل اسیروں کی فہرست کو حتمی شکل نہیں دی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ یمنی جنگی قیدیوں کی کمیٹی کے سربراہ "عبدالقادر المرتضیٰ" نے اپنے تازہ پیغام میں تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز سے اپیل کی کہ وہ غیر سنجیدہ رویوں کو ترک کرتے ہوئے عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہونے والے حالیہ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے نفاذ کی راہ ہموار کریں۔ انہوں نے تمام فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ عمان میں طے پانے والے اس مذکورہ معاہدے پر سنجیدگی سے عمل کریں اور اس عمل میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ ڈالنے سے گریز کریں۔ عبدالقادر المرتضیٰ نے اپنا یہ پیغام سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر ایک ٹویٹ کی صورت پوسٹ کیا جس میں انہوں نے واضح کیا کہ اس معاہدے کے عملی نفاذ کی طے شدہ تاریخ 27 جنوری ہے، لیکن بدقسمتی سے اب تک اس معاہدے میں شامل اسیروں کی فہرست کو حتمی شکل نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس کام کو مزید وقت درکار ہے تاہم امید ہے کہ اس مرحلے پر تمام فریق مثبت رویہ اپنائیں گے اور ایسے اقدامات سے اجتناب کریں گے جو معاہدے کے نفاذ میں رکاوٹ یا کارشکنی کا باعث بنے۔ واضح رہے کہ کہ یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے جب یمن کی مقاومتی تحریک انصارالله اور مستعفی حکومت کے درمیان 2900 قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کو ایک ماہ گزرنے کے باوجود، مخالف فریق نے اسیروں کی فہرستیں پیش نہیں کیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رویہ اس انسانی مسئلے کو بند گلی میں دھکیلنے کی سابقہ پالیسی کی علامت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اس معاہدے معاہدے کے
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
روم: پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔