لاہور: پالتو شیر نے بچے کا بازوچبا لیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور کے علاقے سبزہ زار اسی فٹ روڈ ایریا میں ایک پالتو شیر کے حملے میں آٹھ سالہ بچہ واجد علی شدید زخمی ہو گیا، واقعے میں بچے کا بازو بری طرح متاثر ہوا، جس کے باعث ڈاکٹروں کو جان بچانے کے لیے انتہائی قدم اٹھانا پڑا۔
ڈی آئی جی آپریشنز کے ترجمان کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ ایک نجی بریڈنگ فارم میں پیش آیا، جہاں بچے کھیلتے ہوئے شیروں کے قریب جا پہنچے، شیروں کو رکھے جانے والے پنجروں کے حفاظتی انتظامات ناقص تھے اور مالکان کی غفلت براہِ راست اس سانحے کی وجہ بنی، پولیس نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کی اور ذمہ دار افراد کو حراست میں لے لیا۔
ترجمان نے بتایا کہ واقعے کے فوراً بعد زخمی بچے کو قریبی نجی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث ڈاکٹروں نے جان بچانے کے لیے بچے کا متاثرہ بازو کاٹنے کا فیصلہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق بعد ازاں بچے کو مزید علاج اور نگرانی کے لیے گنگا رام اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ابتدائی طور پر اہلِ خانہ کی جانب سے واقعے کو حادثہ ظاہر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ بچے کا ہاتھ مشین میں آ گیا تھا، تاہم پولیس تحقیقات میں اصل حقیقت سامنے آ گئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بچے کے علاج کے لیے پانچ رکنی خصوصی میڈیکل بورڈ قائم کر دیا گیا ہے، نجی اسپتال میں بازو کی سرجری مکمل کی جا چکی ہے اور اس وقت بچے کی حالت خطرے سے باہر اور نارمل بتائی جا رہی ہے، تاہم مزید علاج اور نفسیاتی بحالی کا عمل جاری رہے گا۔
ڈی آئی جی آپریشنز نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے بریڈنگ فارم کے مالکان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا حکم دے دیا ہے، ملزمان نے واقعے کو قانون نافذ کرنے والے اداروں سے چھپانے کی بھی کوشش کی، جسے بروقت ناکام بنا دیا گیا۔
متاثرہ خاندان کی جانب سے قانونی کارروائی سے گریز کے باوجود پولیس نے ریاستی ذمہ داری کے تحت مقدمہ خود درج کر لیا ہے، مقدمے میں وائلڈ لائف ایکٹ سمیت دیگر سنگین دفعات شامل کی گئی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔